وفاقی آئینی عدالت میں خیبر پختونخوا میں تعمیراتی خدمات پر عائد سیلز ٹیکس آئینی قرار ، خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 کے خلاف دائر اپیلیں مسترد

اسلام آباد۔20فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا میں تعمیراتی خدمات پر عائد سیلز ٹیکس کو آئینی قرار دیتے ہوئے خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دیں اور واضح کیا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد سروسز پر ٹیکس لگانے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے۔ تحریری فیصلہ جسٹس جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا، جس میں قرار دیا …

اسلام آباد۔20فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا میں تعمیراتی خدمات پر عائد سیلز ٹیکس کو آئینی قرار دیتے ہوئے خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دیں اور واضح کیا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد سروسز پر ٹیکس لگانے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے۔

تحریری فیصلہ جسٹس جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ قوانین کو آئینی بنیادوں پر کالعدم قرار نہیں دے سکتی اور آئینی تشریح کا اختیار مخصوص فورم تک محدود کر دیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی عدالت کسی بھی عدالت یا ٹربیونل سے ریکارڈ طلب کر سکتی ہے تاکہ آئینی نکات کا جائزہ لیا جا سکے۔فیصلے کے مطابق خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 کے شیڈول ٹو کا سیریل نمبر 14 آئین کے منافی نہیں ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت صرف اشیاء پر ٹیکس عائد کر سکتی ہے جبکہ تعمیراتی خدمات سروسز کے زمرے میں آتی ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ ایکٹ کا سیریل نمبر 14 تعمیراتی خدمات سے متعلق ہے اور اس میں اشیاء شامل نہیں ہیں، اس لیے اسے غیر آئینی قرار نہیں دیا جا سکتا۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جس کے تحت کسی شہری یا کمپنی کو ایک ہی چیز پر دو بار ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے۔

اس مقصد کے لیے ریونیو اتھارٹی ایسے اصول مرتب کرے جس میں ٹھیکیدار کے مجموعی بجٹ کو خدمات اور سامان میں واضح طور پر تقسیم کیا جائے تاکہ ٹیکس کے نفاذ میں شفافیت برقرار رہے۔