اسلام آباد۔20فروری (اے پی پی):قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس چیئرمین و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صحت کے شعبے سے متعلق ریگولیٹری اور پالیسی امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ملک میں ایچ آئی وی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے وزارت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ …
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس ، صحت کے شعبے سے متعلق ریگولیٹری اور پالیسی امور کا جائزہ لیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔20فروری (اے پی پی):قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس چیئرمین و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صحت کے شعبے سے متعلق ریگولیٹری اور پالیسی امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ملک میں ایچ آئی وی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے وزارت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ طلب کردہ متعدد تفصیلات رپورٹ میں شامل نہیں کی گئیں جن میں صوبہ بلوچستان سے متعلق ایچ آئی وی کا ڈیٹا بھی شامل ہے۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت فی مریض سالانہ تقریباً 300 تا 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں تاہم یہ تفصیل فراہم کردہ دستاویزات میں ظاہر نہیں کی گئی۔ارکان نے نشاندہی کی کہ سندھ اور پنجاب سے تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار ایچ آئی وی مریض رپورٹ ہوئے ہیں، جو تقریباً 75 فیصد بنتے ہیں۔ سال19۔ 2018 میں 20 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2024ء کے پہلے نو ماہ میں 9 ہزار 700 کیسز سامنے آئے۔ کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ نشتر ہسپتال میں ایچ آئی وی مثبت قرار دیئے گئے 31 مریضوں کے علاج کی پیش رفت سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ مزید برآں ضلع سرگودھا (کوٹ مومن) میں 19۔2018 کے دوران رپورٹ ہونے والے 5 ہزار کیسز میں سے 669 کیسز کا ڈیٹا بھی دستیاب نہیں تھا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2019ء میں 24 ہزار مریض علاج کے لیے رجسٹر ہوئے جبکہ وزیر صحت نے وضاحت کی کہ اس وقت 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں۔ کمیٹی نے زور دیا کہ طلب کردہ اعداد و شمار اور اسباب سمیت متعدد پہلو وزارت کی رپورٹ میں مناسب طور پر شامل نہیں کیے گئے۔وزیر صحت نے وضاحت کی کہ وزارت کی جانب سے ٹیسٹنگ سینٹرز کی تعداد 24 سے بڑھا کر 127 کرنے کے نتیجے میں زیادہ افراد کی سکریننگ ہوئی جس سے کیسز کی نشاندہی میں اضافہ ہوا۔
وزیر صحت نے کہا کہ ان کے دور میں متعدد مثبت اقدامات کیے گئے جن کی عکاسی رپورٹ میں ہونی چاہیے۔ کمیٹی نے اس حوالے سے وزارت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ رپورٹ ہونے والے ایچ آئی وی کیسز کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے اور سکریننگ سہولیات میں توسیع کے باعث مزید کیسز کی نشاندہی ممکن ہوئی۔ وزارت نے آگاہ کیا کہ ملک بھر میں سکریننگ اور آگاہی اقدامات جاری ہیں جبکہ پروگرام سے متعلق امور، فنڈز اور نگرانی کے نظام سے متعلق تفصیلات آئندہ بریفنگ میں فراہم کی جائیں گی۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس سے قبل مجموعی پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ این جی اوز کو دی جانے والی فنڈنگ، پروگرام پر عملدرآمد بالخصوص ایچ آئی وی سے متعلق امور اور منصوبہ جاتی آپریشنل بریفنگ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔اجلاس میں اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی اور نگرانی سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ارکان نے کلینیکل نگرانی اور نفاذکے اقدامات سے متعلق پیش رفت ، رپورٹنگ میں تاخیر اور نامکمل معلومات پر تشویش کا اظہار کیا۔ وزارت نے بتایا کہ بعض امور مزید جائزہ اور وقت کے متقاضی ہیں۔
ارکان نے آئندہ رپورٹس میں جامع دستاویزی شواہد اور زمینی حقائق کی بنیاد پر تفصیلات فراہم کرنے پر زور دیا۔پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل 2025 آرڈیننس نمبر IX سے متعلق غور و خوض کے دوران وزیر صحت نے کہا کہ جنگ ابھی جاری ہے اور انہوں نے ہار نہیں مانی اور تجویز دی کہ اس معاملہ کو آئندہ اِن کیمرہ اجلاس میں زیر غور لایا جائے۔ ارکان نے ذرائع کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا کہ نئی تشکیل شدہ کونسل میں گلگت بلتستان اور بلوچستان سے بعض ارکان کے پاس جعلی ڈگریاں ہیں اور مطلوبہ اہلیت موجود نہیں، جس کی تصدیق طلب کی گئی۔
وزارت نے ارکان سے دستاویزی شواہد فراہم کرنے کی درخواست کی اور یقین دہانی کرائی کہ اس ضمن میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔ کمیٹی نے آرڈیننس پر بحث آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دی۔کمیٹی نے وزارت کے ترقیاتی منصوبوں اور (پی ایس ڈی پی) کے تحت جاری سکیموں پر عملدرآمد اور فنڈز کے استعمال کا بھی جائزہ لیا۔
ارکان نے جاری پی ایس ڈی پی سکیموں کے حوالے سے وزارت کی تیاری کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے اسے الارمنگ صورتحال سے تعبیر کیا اور آئندہ اجلاسوں میں متعلقہ حکام سے تفصیلی بریفنگ اور مکمل دستاویزات طلب کر لیں۔
اجلاس میں زہرہ ودود فاطمی، فرح ناز اکبر، ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو، ڈاکٹر نکہت شکیل خان، عالیہ کامران، ڈاکٹر درشن، صبیحہ غوری اور ڈاکٹر شائستہ خان سمیت وزیر صحت، وزارت اور اس کے ذیلی اداروں کے متعلقہ حکام اور سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔








