کولمبو۔20فروری (اے پی پی):نیوزی لینڈ کے مڈل آرڈر بلے باز مارک چیپمین نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں بائیں ہاتھ کے بلے بازوں سے خاص لگاؤ رہا ہے اور بچپن میں وہ اسٹیفن فلیمنگ سے متاثر تھے۔ غیر ملکی ویب سائٹ کو دئے گئے انٹرویو میں وہ بتاتے ہیں کہ کم عمری میں نیوزی لینڈ ٹیم کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے کرکٹرز کو اپنا آئیڈیل …
انہیں بائیں ہاتھ کے بلے بازوں سے خاص لگاؤ رہا ہے اور بچپن میں وہ اسٹیفن فلیمنگ سے متاثر تھے،بلے باز مارک چیپمین

مزید خبریں
کولمبو۔20فروری (اے پی پی):نیوزی لینڈ کے مڈل آرڈر بلے باز مارک چیپمین نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں بائیں ہاتھ کے بلے بازوں سے خاص لگاؤ رہا ہے اور بچپن میں وہ اسٹیفن فلیمنگ سے متاثر تھے۔ غیر ملکی ویب سائٹ کو دئے گئے انٹرویو میں وہ بتاتے ہیں کہ کم عمری میں نیوزی لینڈ ٹیم کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے کرکٹرز کو اپنا آئیڈیل بنایا۔ ان کے ابتدائی بلوں میں گن اینڈ مور پیورسٹ ماڈل شامل تھا، جو اسٹیفن فلیمنگ بھی استعمال کرتے تھے، اور یہی چیز ان کے لیے مزید تحریک کا باعث بنی۔چیپمین اس وقت ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں شاندار فارم میں ہیں اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 177 ہے۔
جنوبی افریقہ کے خلاف ایک میچ میں انہوں نے 26 گیندوں پر 48 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ وہ کریز پر آتے ہی تیزی سے رنز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور خاص طور پر لیگ سائیڈ پر ان کے شاٹس بے حد مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا مخصوص شاٹ، جسے اسٹیپ فلک کہا جاتا ہے، نہایت تیز ہاتھوں اور کلائیوں کی مدد سے کھیلا جاتا ہے۔ 2024 میں ویلنگٹن میں انہوں نے اسی شاٹ پر مچل اسٹارک کو چھکا جڑا تھا، جبکہ گزشتہ برس روماریو شیفرڈ بھی ان کا نشانہ بنے۔
چیپمین کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ جسمانی طور پر زیادہ مضبوط کھلاڑیوں جیسے گلین فلپس کی طرح نہیں، لیکن ان کے پاس بیٹ اسپیڈ موجود ہے جو انہیں طاقت پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ان کے مطابق اصل طاقت بازوؤں کی رفتار اور درست ٹائمنگ سے آتی ہے، اور وہ اسی پہلو پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔نیوزی لینڈ نے انہیں مڈل آرڈر میں ایک جارح مزاج کردار دیا ہے جہاں وہ پانچویں یا اس سے نچلی پوزیشن پر آکر بولرز پر دباؤ بڑھاتے ہیں۔ اگرچہ ان کی 74 میں سے 54 اننگز 30 رنز سے کم رہی ہیں، لیکن اہم مواقع پر انہوں نے یادگار کارکردگی دکھائی ہے، خاص طور پر پاکستان کے خلاف۔ چیپمین نے اپنے ٹی ٹوئنٹی کیریئر میں لگ بھگ 1600 سے زائد رنز بنائے ہیں جن میں سے تقریباً 40 فیصد پاکستان کے خلاف آئے۔
2023 میں پاکستان کے دورے پر انہوں نے سیریز میں نمایاں کردار ادا کیا اور ٹیم کو دو صفر کے خسارے سے واپس لا کر مقابلہ برابر کرانے میں مدد دی۔ اسی کارکردگی کے باعث پاکستان سپر لیگ کی نیلامی میں ان پر بڑی رقم لگائی گئی۔ہانگ کانگ میں پرورش پانے والے چیپمین نے کرکٹ کا آغاز عمارتوں کی چھتوں پر کھیل کر کیا۔ ان کے والد ہاکی کے اچھے کھلاڑی تھے، مگر بائیں ہاتھ سے کھیلنے کی وجہ سے چیپمین کو اس کھیل میں دشواری پیش آئی۔ بعد ازاں آکلینڈ کے کنگز کالج میں تعلیم کے دوران انہوں نے رگبی بھی آزمایا، لیکن جسمانی چوٹوں کے باعث دوبارہ کرکٹ پر توجہ مرکوز کر لی۔
وہ ماندرین زبان بھی خاصی حد تک بول لیتے تھے، تاہم ان کے والدین کی خواہش تھی کہ خاندان مستقل طور پر نیوزی لینڈ منتقل ہو جائے۔چیپمین کا ماننا ہے کہ جارحانہ انداز اپنانے کے ساتھ بنیادی تکنیک کو برقرار رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر بنیاد مضبوط ہو تو کھلاڑی اپنے پاور گیم کو بہتر انداز میں شامل کر سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ کے لیے ان کا مجموعی اسٹرائیک ریٹ 143.2 ہے، جو انہیں ملک کے تیز ترین اسکوررز میں شامل کرتا ہے۔
اگرچہ مستقبل میں ان کی جگہ کے لیے نئے کھلاڑی مقابلے میں آ سکتے ہیں، لیکن چیپمین کو یقین ہے کہ اگر وہ اپنی مہارت اور اعتماد برقرار رکھیں تو ٹیم میں اپنی اہمیت ثابت کرتے رہیں گے۔ کولمبو میں پاکستان کے خلاف میچ میں ایک بار پھر ان کی لیگ سائیڈ پاور ہٹنگ نیوزی لینڈ کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔








