عالمی کرکٹ کونسل کو ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ 2026 کے سپر ایٹ مرحلے کے فارمیٹ پر شدید تنقید کا سامنا ہے

کولمبو۔20فروری (اے پی پی):عالمی کرکٹ کونسل کو ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ 2026 کے سپر ایٹ مرحلے کے فارمیٹ پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اگلے مرحلے کے لیے آٹھ ٹیموں کی حتمی فہرست سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں پری سیڈنگ نظام کو متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت چاروں گروپس کی پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کو ایک ہی …

کولمبو۔20فروری (اے پی پی):عالمی کرکٹ کونسل کو ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ 2026 کے سپر ایٹ مرحلے کے فارمیٹ پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اگلے مرحلے کے لیے آٹھ ٹیموں کی حتمی فہرست سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں پری سیڈنگ نظام کو متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت چاروں گروپس کی پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کو ایک ہی گروپ میں جبکہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کو دوسرے گروپ میں شامل کیا گیا ہے، جس سے مقابلوں میں واضح عدم توازن پیدا ہوگیا ہے۔

پہلے گروپ میں بھارت، زمبابوے، ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، جو اپنے اپنے گروپس میں سرفہرست رہے تھے۔ دوسرے گروپ میں پاکستان، سری لنکا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو رکھا گیا ہے، جنہوں نے اپنے گروپس میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ اس ترتیب کے باعث ابتدائی مرحلے میں بہترین کارکردگی دکھانے والی دو مضبوط ٹیموں کا سیمی فائنل سے پہلے ہی باہر ہونا یقینی ہو گیا ہے، جبکہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی کسی ٹیم کے لیے آخری چار میں جگہ بنانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ عام طور پر کسی بھی بڑے مقابلے میں گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم کو اگلے مرحلے میں فائدہ دیا جاتا ہے، مگر موجودہ نظام میں سرفہرست رہنے کا کوئی خاص فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔

بعض ٹیموں نے اپنے گروپس میں شاندار کارکردگی دکھائی، لیکن پہلے سے طے شدہ درجہ بندی کے باعث انہیں توقع کے مطابق برتری حاصل نہیں ہو سکی، جس سے آخری گروپ مقابلوں کی اہمیت بھی متاثر ہوئی۔شریک میزبان سری لنکا کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگر سری لنکا سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرتا ہے تو پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق اسے اپنے ہوم گراؤنڈ کے بجائے بھارت میں میچ کھیلنا ہوگا، جس سے مقامی شائقین اپنی ٹیم کو اپنے میدان میں سپورٹ کرنے سے محروم رہ سکتے ہیں۔

عالمی کرکٹ کونسل کا مؤقف ہے کہ بھارت اور سری لنکا میں مشترکہ میزبانی کے باعث انتظامی اور سفری معاملات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ نظام اپنایا گیا، تاہم ماہرین اور شائقین کی بڑی تعداد اب بھی اسے غیر متوازن اور مقابلے کے تقاضوں کے برعکس قرار دے رہی ہے۔