واشنگٹن۔20فروری (اے پی پی):امریکی سپریم کورٹ نےصدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تجارتی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔عدالتی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدرنے ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، جس کے نتیجہ میں عالمی تجارت بری طرح متاثر ہوئی ، انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت امریکہ کے صدرکو ٹیرف عائد کرنے کا اختیار نہیں ۔ تجزیہ نگاروں نے امریکی سپریم کورٹ …
امریکی سپریم کورٹ نےصدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تجارتی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا

مزید خبریں
واشنگٹن۔20فروری (اے پی پی):امریکی سپریم کورٹ نےصدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تجارتی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔عدالتی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدرنے ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، جس کے نتیجہ میں عالمی تجارت بری طرح متاثر ہوئی ، انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت امریکہ کے صدرکو ٹیرف عائد کرنے کا اختیار نہیں ۔ تجزیہ نگاروں نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ٹرمپ کی معاشی پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہےجو ٹیرف کو اپنے اقتصادی ایجنڈے کا ایک اہم عنصر تصور کرتے تھے۔
فیصلے سے رواں سال کے تجارتی معاہدوں پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد ممالک پر ٹیرف عائد کیا تھا اورگزشتہ ماہ اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر عدالت نے ٹیرف کے معاملہ پرفیصلہ دیا تو ہم مشکل میں پڑ جائیں گے۔ امریکی آئین کے مطابق ٹیکس اور ٹیرف عائد کرنے کا اختیار کانگریس کو حاصل ہے، نہ کہ صدر کو۔
لیکن ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر بین الاقوامی ہنگامی معاشی اختیارات ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کا سہارا لیتے ہوئے تقریباً تمام امریکی تجارتی شراکت داروں پر ٹیرف عائد کر دیا تھا۔یہ ٹیرف ایک ایسے قانون کے تحت نافذ کیے گئے تھے جو قومی ہنگامی حالات میں استعمال کے لیے بنایا گیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کے عالمی معیشت پر بڑے اثرات مرتب ہوں گے اور اس نے ٹرمپ کے اختیارات کے ایک متنازعہ دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔








