واشنگٹن ۔21فروری (اے پی پی):امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ۔چینی خبررساں ادارے شنہوا کے مطابق یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب چند گھنٹے قبل ا مریکی سپریم کورٹ نے 6۔3 کے تناسب سے فیصلہ دیا کہ بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون (آئی ای ای پی اے ) کے …
امریکا،صدرڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے

مزید خبریں
واشنگٹن ۔21فروری (اے پی پی):امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ۔چینی خبررساں ادارے شنہوا کے مطابق یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب چند گھنٹے قبل ا مریکی سپریم کورٹ نے 6۔3 کے تناسب سے فیصلہ دیا کہ بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون (آئی ای ای پی اے ) کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کی ٹیرف پالیسی غیر قانونی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے اوول آفس سے تمام ممالک پر عالمی سطح پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جو تقریباً فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کےڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا جواب دیا ہے جس میں ان کی ٹیرف پالیسی کو چیلنج کیا گیا تھا۔عدالت نے قرار دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آئی ای ای پی اے کی تشریح کانگریس کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہے اور اہم سوالات کے اصول کی خلاف ورزی کرتی ہے جس کے تحت بڑے معاشی اور سیاسی اثرات رکھنے والے اقدامات کے لیے ایگزیکٹو برانچ کو کانگریس کی واضح منظوری درکار ہوتی ہے۔
چیف جسٹس جان رابرٹس نے عدالت کی رائے دیتے ہوئے کہا کہ صدر کو ٹیرف عائد کرنے کے اس غیر معمولی اختیار کو جائز قرار دینے کے لیے کانگریس کی واضح اجازت کا حوالہ دینا ہوگا۔تاہم، عدالتی فیصلے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پہلے سے زیادہ شرح پر وصول کیے گئے ٹیرف واپس کیے جائیں گے یا نہیں۔
گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ اپنے ٹیرف برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل قومی سلامتی کی بنیاد پر سٹیل اور ایلومینیم پر ٹیرف عائد کرنے کے لیے 1962 کے ٹریڈ ایکسپینشن ایکٹ کی دفعہ 232 کا بھی حوالہ دے چکے ہیں۔








