اقوام متحدہ۔21فروری (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان کی شمولیت کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے 15 رکنی ادارے کی غیر فعالیت میں اضافہ اور خود مختار مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہوگی۔ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخاراحمد نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے طویل عرصے سے …
سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان کی شمولیت سے ادارے کی غیر فعالیت میں اضافہ اور خود مختار مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہوگی،پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔21فروری (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان کی شمولیت کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے 15 رکنی ادارے کی غیر فعالیت میں اضافہ اور خود مختار مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہوگی۔ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخاراحمد نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری بین الحکومتی مذاکرات (آئی جی این)کے دوبارہ شروع ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان جمہوری نمائندگی بڑھانے کے لیے صرف غیر مستقل منتخب نشستوں کو بڑھانے کی وکالت کرتا ہے تاکہ "سب کے لیے اصلاح – کسی کے لیے استحقاق” کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ انفرادی مستقل رکنیت کی مہم متفقہ اصولوں کے تحت چلنے والی اصلاحات کی بنیاد نہیں بن سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اراکین کی بھاری اکثریت اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ مستقل رکنیت اور ویٹو کونسل کے فالج اور بے عملی کا بنیادی حصہ ہیں جو کئی سالوں میں اکثر دیکھے جاتے ہیں،یہ مرکزی فالٹ لائن ہے جو کونسل کی ساکھ اور تاثیر کو کمزور کرتی ہے۔ پاکستان کے مستقل موقف کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے مستقل اراکین موجودہ مستقل اراکین کے غیر معمولی اثر و رسوخ کو بے اثر نہیں کریں گے بلکہ وہ اس کو پھیلانے کا خطرہ مول لیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی رائے تھی کہ پانچ مستقل ارکان کی غیر مساوی طاقت کو متوازن کرنے کا بہترین طریقہ زیادہ جمہوری اور جوابدہ ہے جس میں منتخب، غیر مستقل ارکان میں بامعنی اضافہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وسیع تر رکنیت کے حق میں توسیع شدہ کونسل کے اندرونی توازن کو بدل دے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ قراردادوں کی منظوری کے لیے مطلوبہ اکثریت منتخب اراکین کے پاس ہو، اس طرح خود مختاری کے اصول کو برقرار رکھتے ہوئے کونسل کے فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت، شمولیت اور جوابدہی میں اضافہ ہو گا۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان مستقل نشستوں کے لیے افریقا کے مطالبے کو پوری طرح سمجھتا ہے اور اس کا احترام کرتا ہے جو کہ پورے خطے کی جانب سے اور اس کے لیے ہے اور اس لیے بنیادی طور پر ان دیگر تجاویز سے مختلف ہے جو تقسیم کرنے والی ہیں کیونکہ وہ انفرادی ریاستوں کے لیے مستقل رکنیت کے خواہاں ہیں،کسی بھی تصور کو ہماری نظر میں حقیقی گردش اور منصفانہ علاقائی نمائندگی کو یقینی بنانا چاہیے۔








