گرین شرٹس مصر میں ہونے والے کوالیفائرز کے سنہری موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاکی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر ے گی ، خواجہ محمدجنید

اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):قومی ہاکی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ اولمپئن خواجہ محمدجنید نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ گرین شرٹس مصر میں ہونے والے کوالیفائرز کے سنہری موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاکی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر ے گی، اگر کھلاڑی اپنی بھرپور صلاحیت کے مطابق کھیلیں اور ایک مربوط یونٹ کے طور پر میدان میں اتریں تو مجھے یقین ہے کہ ہم …

اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):قومی ہاکی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ اولمپئن خواجہ محمدجنید نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ گرین شرٹس مصر میں ہونے والے کوالیفائرز کے سنہری موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاکی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر ے گی، اگر کھلاڑی اپنی بھرپور صلاحیت کے مطابق کھیلیں اور ایک مربوط یونٹ کے طور پر میدان میں اتریں تو مجھے یقین ہے کہ ہم مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں، ہاکی ورلڈ کپ اگست کے دوسرے ہفتے میں نیدرلینڈز اور بیلجیئم میں کھیلا جائے گا اور ٹیم مسلسل عمدہ کارکردگی کے ذریعے ایونٹ میں جگہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔پیر کو ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمدجنید نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح پاکستان کی ٹیم کو ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ کوالیفائرز میں کامیاب بنانا ہےجو یکم سے 7 مارچ تک مصر میں منعقد ہوں گے، قومی ٹیم کل (منگل)ایونٹ کے لیے روانہ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ میری بھرپور کوشش ہوگی کہ پاکستان ورلڈ کپ کوالیفائرز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے اور میگا ایونٹ میں جگہ بنائے، طویل عرصے بعد پاکستان کے پاس ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کا یہ ایک سنہری موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصر میں پاکستان کو سخت مقابلے کا سامنا ہوگا جہاں گروپ مرحلے میں اس کا مقابلہ ملائیشیا، آسٹریا اور چین سے ہوگا، ہم اس چیلنج کو ہرگز آسان نہیں لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملائیشیا، آسٹریا اور چین مضبوط ٹیمیں ہیں اور ہمیں اپنی بہترین کارکردگی دکھانا ہوگی۔کوچ نے بتایا کہ ورلڈ کپ اگست کے دوسرے ہفتے میں نیدرلینڈز اور بیلجیئم میں کھیلا جائے گا اور ٹیم مسلسل عمدہ کارکردگی کے ذریعے ایونٹ میں جگہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ایف آئی ایچ پرو لیگ میں حالیہ شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ محمدجنید نے کہا کہ اگرچہ ٹیم 8 میچوں میں کامیابی حاصل نہ کر سکی تاہم عالمی درجہ بندی کی صف اول کی ٹیموں کے خلاف کھیلنے کا تجربہ فائدہ مند ثابت ہوا، دنیا کی بہترین ٹیموں کے خلاف کھیلنے سے ہمارے کھلاڑیوں کو قیمتی تجربہ حاصل ہوا، اب وہ اپنی کمزوریوں کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ گفتگو میں ہم نے ان شعبوں پر تفصیل سے بات کی جن میں بہتری کی ضرورت ہے، کوالیفائرز میں قدم رکھنے سے پہلے ان کمزوریوں کو دور کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اتحاد اور عزم کلیدی کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کھلاڑی اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کھیلیں اور ایک مربوط یونٹ کے طور پر میدان میں اتریں تو مجھے یقین ہے کہ ہم مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔پاکستان کے شاندار ماضی کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی بین الاقوامی ہاکی میں ایک بھرپور تاریخ ہے اور اس نے متعدد اولمپک اور ورلڈ کپ ٹائٹلز جیت رکھے ہیں، پاکستان ہاکی کا ماضی قابل فخر ہے، یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اس جیتنے کی روایت کو بحال کریں اور عالمی ہاکی میں ملک کا کھویا ہوا مقام واپس دلائیں۔انہوں نے بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نومنتخب ایڈہاک صدر محی الدین احمد وانی کی کوششوں کو بھی سراہا، وہ فیڈریشن کے امور کو بہتر بنانے اور استحکام لانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں،مجھے امید ہے کہ ان کی قیادت میں قومی کھیل دوبارہ درست سمت پر گامزن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سے قبل بھی اسی عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور اپنی اکیڈمی کے ذریعے کھیل سے قریبی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہیں،میں ہمیشہ ہاکی سے جڑا رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اپنی اکیڈمی کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرتا ہوں اور کھیل میں سرگرم رہتا ہوں۔آخر میں انہوں نے توقعات پر پورا اترنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ مجھے اپنے اوپر عائد توقعات کا بخوبی ادراک ہے اور میں انہیں پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا،کامیابی صرف محنت، نظم و ضبط اور لگن سے حاصل ہوتی ہے۔