کولمبو۔26فروری (اے پی پی):سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کپتان داسن شناکا نے کہا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط اور منظم حریف ہے جسے شکست دینا ہرگز آسان نہیں ہوگا۔ نیوزی لینڈ ٹیم سے شکست کے بعد ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور بڑے مقابلوں میں ہمیشہ سخت چیلنج پیش کرتی ہے۔ …
پاکستان ایک مضبوط اور منظم حریف ،شکست دینا ہرگز آسان نہیں ہوگا، کپتان سری لنکن کرکٹ ٹیم داسن شناکا کی ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو

مزید خبریں
کولمبو۔26فروری (اے پی پی):سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کپتان داسن شناکا نے کہا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط اور منظم حریف ہے جسے شکست دینا ہرگز آسان نہیں ہوگا۔ نیوزی لینڈ ٹیم سے شکست کے بعد ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور بڑے مقابلوں میں ہمیشہ سخت چیلنج پیش کرتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان کے خلاف میچز عموماً سنسنی خیز اور دباؤ سے بھرپور ہوتے ہیں، اس لیے ان کی ٹیم کو ہر شعبے میں بہترین کارکردگی دکھانا ہوگی۔ داسن شناکا کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کو کسی صورت آسان حریف نہیں سمجھ رہے اور مقابلے کے لیے بھرپور تیاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم میدان میں پوری جان لگا دے گی اور شائقین کو ایک سخت اور دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ سری لنکن کپتان نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ سری لنکن کھلاڑی مثبت حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور آخر تک بھرپور مقابلہ کریں گے۔سری لنکا کے کپتان داسن شناکا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو صرف میدان میں نہیں بلکہ میدان سے باہر بھی سخت دباؤ کا سامنا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل منفی باتوں اور تنقید نے کھلاڑیوں کی ذہنی کیفیت کو متاثر کیا۔ داسن شناکا نے کہا کہ بطور کھلاڑی وہ ہمیشہ مثبت رہنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جب چاروں طرف مایوسی اور تنقید کا ماحول ہو تو اس کے اثرات نوجوان کھلاڑیوں پر ضرور پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ مقابلہ دیکھے بغیر ہی رائے قائم کر لیتے ہیں، جو ٹیم کے لیے نقصان دہ ہے۔
ان کے مطابق اگر ممکن ہو تو حکام کو چاہیے کہ وہ مستقبل کے کھلاڑیوں کو اس منفی فضا سے بچانے کے لیے اقدامات کریں تاکہ ان کی ذہنی صحت محفوظ رہ سکے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیم میدان کی صورتحال کو درست انداز میں نہ سمجھ سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں توقع تھی کہ وکٹ بلے بازی کے لیے بہتر ہوگی، لیکن ابتدا ہی سے بائولرز کو غیر معمولی مدد ملی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ منصوبہ بندی حالات کے مطابق نہیں ہو سکی اور اس کا خمیازہ ٹیم کو بھگتنا پڑا۔ کپتان نے انجریز کو بھی بڑی وجہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وندو ہسارنگا کی انجری نے ٹیم کے توازن کو متاثر کیا، جبکہ متھیشا پتھیرانا اور ایشان ملنگا کی عدم دستیابی بھی نقصان دہ ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی مکمل فٹنس بہت ضروری ہے کیونکہ اہم مقابلوں میں ایک یا دو اہم کھلاڑیوں کی کمی بھی نتائج بدل دیتی ہے۔ داسن شناکا نے شائقین سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہوم گراؤنڈ پر عالمی مقابلہ کھیلنا ہر کھلاڑی کے لیے اعزاز کی بات ہوتی ہے اور پوری ٹیم کی خواہش تھی کہ وہ آخری چار تک رسائی حاصل کرے، لیکن وہ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ٹیم اپنی خامیوں کا جائزہ لے گی اور مستقبل میں بہتر نتائج دینے کی بھرپور کوشش کرے۔








