خرم شہزاد اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں 2025 کے دوران 75,175 آپریشنز کیے جس میں 16 انتہائی مطلوب دہشتگردوں سمیت 2,597کو جہنم واصل کیا۔گزشتہ سال دہشت گردی کے 5,397 واقعات اور 27 خودکش حملے ہوئے جن میں سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں سمیت مجموعی طور پر1235افراد شہید ہوئے۔ 2021 میں دہشت گردی کے 761 واقعات اور 23,582 آپریشنز کیے گئے تھے، جو 2025 میں …
گزشتہ سال 75,175 آپریشنز میں 2,597 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے، دہشت گردی کے 5,397 واقعات میں 1,235 شہادتیں ہوئیں، سمگلنگ کی روک تھام سے 400 ارب کا ریونیو حاصل ہوا، پانچ سال میں دہشت گردی کے واقعات میں 7 گنا اضافہ ہوا ، انسداد دہشت گردی رپورٹ

مزید خبریں
خرم شہزاد
اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں 2025 کے دوران 75,175 آپریشنز کیے جس میں 16 انتہائی مطلوب دہشتگردوں سمیت 2,597کو جہنم واصل کیا۔گزشتہ سال دہشت گردی کے 5,397 واقعات اور 27 خودکش حملے ہوئے جن میں سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں سمیت مجموعی طور پر1235افراد شہید ہوئے۔ 2021 میں دہشت گردی کے 761 واقعات اور 23,582 آپریشنز کیے گئے تھے، جو 2025 میں بڑھ کر بالترتیب 5,397 واقعات اور 75,175 آپریشنز تک پہنچ چکے ہیں۔
سمگلنگ کی روک تھام سے 400 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا اور سرحد پار دشمن کے 102 ٹھکانے تباہ کیے گئے۔سکیورٹی حکام کی جانب سے 2025 کی جاری کی گئی انسدادِ دہشت گردی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 75,175 آپریشنز کیے گئے جن میں 2,597 دہشت گرد مارے گئے۔ جن میں خیبر پختونخوا میں14,658 آپریشنز، 1,803 دہشت گرد جہنم واصل، بلوچستان میں 58,778 آپریشنز، 784 دہشت گرد جہنم واصل، دیگر علاقوں میں 1,739 آپریشنز، 10 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 میں پاک افغان سرحد پر افغان عبوری حکومت کے دستوں کی بلا اشتعال فائرنگ کے دو شدید واقعات پیش آئے۔ پاک فوج اور فضائیہ کی بھرپور جوابی کارروائی میں سرحد پار دشمن کی 102 پوسٹیں اور ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ ان جھڑپوں میں 318 دہشت گرد ہلاک اور 404 زخمی ہوئے، جبکہ پاکستان کے 23 جوان شہید ہوئے۔رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے لئے افغانستان میں موجود 5,000 ، بلوچستان کے لئے افغانستان میں موجود 600اور ایران میں موجود 700 دہشت گرد خطرہ ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں مجموعی طور پر دہشت گردی کے 5,397 واقعات بشمول 27 خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے۔ان میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 3,811 واقعات، بلوچستان میں دہشت گردی کے 1,557 واقعات شامل ہیں ۔
2025میں 2 خواتین (ماہیکان بلوچ اور زرینہ رفیق) نے خودکش حملے کیے۔رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مجموعی طور پر 1,235 افراد نے جامِ شہادت نوش کیا جس میں 665 سکیورٹی افسران وجوان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 170 ارکان اور 400شہری شامل ہیں ۔2021سے 2025 تک اگر 5 سالوں کا موازنہ کیا جائے تو گزشتہ پانچ سالوں میں سکیورٹی چیلنجز اور فورسز کے ردعمل میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔2021 میں دہشت گردی کے 761 واقعات ، 2022 میں 1020، 2023 میں 1811، 2024 میں 3014 اور 2025 میں بڑھ کر 5,397 ہو گئے۔
سکیورٹی فورسز نے 2021 میں 23,582 آپریشنز ، 2022 میں 25621، 2023 میں 28684، 2024 میں 62380 اور 2025 میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر کو مد نظر رکھتے ہوئے آپریشنز کی تعداد75,175 تک پہنچ گئی۔رپورٹ کے مطابق 15 ستمبر 2023 سے اب تک مجموعی طور پر 1,994,027 افغان باشندے واپس بھیجے گئے۔ جن میں 1,753,534 رضاکارانہ طور پر واپس گئے جبکہ 240,493 کو بیدخل کیا گیا۔ ملک بھر میں تمام 54 افغان مہاجرین کیمپوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔پاک افغان سرحد پر 21 کراسنگ پوائنٹس 11 اکتوبر 2025 سے بند ہیں ، صرف غیر قانونی غیر ملکیوں کو واپس بھجوایا جار ہا ہے۔
معاشی اور انتظامی اقدامات کے حوالے سے بتایا گیا کہ سمگلنگ روکنے سے قانونی ایندھن کی فروخت میں 47فیصد اضافہ ہوا، جس سے 300 سے 400 ارب روپےکا اضافی ریونیو حاصل ہوا۔مزید سمگلنگ روکنے کے لیے دریائے سندھ اور بلوچستان میں 35 ڈیجیٹل انفورسمنٹ سٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے تمام "بی” ایریاز کو "اے” ایریاز میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور 60فیصد لیویزکو پولیس میں شامل کر دیا گیا ہے۔ترمیمی نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ سے ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے نتیجے میں پولیس کے دائرہ اختیار میں اضافہ اور طرزِ حکمرانی میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ خاص طور پر بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں حکومتی رسائی اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے، جو کہ ریاست کی رٹ کی بحالی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔پلان کے کائنیٹک ڈومین کے تحت عسکریت پسندی، مسلح گروہوں اور مجرمانہ گینگز کے لیے "زیرو ٹالرنس” کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔
اگرچہ میڈیا اور سائبر نیٹ ورک کے ذریعے دہشت گردی کے پھیلاؤ کو روکنے اور فرقہ وارانہ انتہا پسندی کے خلاف اقدامات میں پیش رفت سست ہے، تاہم دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے، کالعدم تنظیموں کی بیخ کنی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے سدباب میں سکیورٹی اداروں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔نان کائنیٹک اقدامات کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن اور انہیں باقاعدہ بنانے سمیت افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے عمل میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔
دوسری جانب، انسدادِ دہشت گردی کے مقدمات کی عدالتی پیروی، سی ٹی ڈی کی صلاحیت میں اضافہ، فوجداری نظامِ انصاف میں اصلاحات اور جاسوسی کے خلاف قانون سازی جیسے معاملات میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں مفاہمتی عمل اور خیبر پختونخوا میں این ایف سی و بلدیاتی اصلاحات جیسے اہم امور بھی تاحال خصوصی توجہ کے طلب گار ہیں۔








