اقوام متحدہ۔27فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے طالبان جنگجوؤں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے درمیان کراس بارڈر جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے گزشتہ روز بتایا ہے کہ سیکرٹری جنرل صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سیکرٹری جنرل نے …
اقوام متحدہ کے رہنماؤں کا پاک۔افغان سرحد پر جھڑپوں کے بعد بات چیت اور سفارت کاری پر زور

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔27فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے طالبان جنگجوؤں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے درمیان کراس بارڈر جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے گزشتہ روز بتایا ہے کہ سیکرٹری جنرل صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سیکرٹری جنرل نے متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
ترجمان نے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے حالیہ مہینوں میں کئی رکن ممالک کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری رکھیں۔ دریں اثنا، جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتِ حال طاقت کے استعمال میں اضافے کی بجائے فوری سیاسی مذاکرات کی متقاضی ہے۔
عالمی ادارے کے علاوہ، اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ ادارے بین الاقوامی فوجداری عداکت (آئی سی سی ) نے طالبان کے سپریم لیڈر ہیبۃ اللہ اخونزادہ اور طالبان کے چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ وارنٹ کے مطابق دونوں افراد پر انسانیت کے خلاف جرائم، بالخصوص خواتین، بچیوں اور طالبان کی صنفی پالیسی سے اختلاف رکھنے والوں کے خلاف ظلم و ستم کے احکامات دینے یا اس کی ترغیب دینے کے الزامات کے معقول شواہد موجود ہیں ۔








