فیفا کے 10 سال، جانی انفینٹینو کا ممبر ایسوسی ایشنز کے نام شکریہ کا خط، فٹ بال کی بحالی کا اعلان

زیورخ۔27فروری (اے پی پی):فیفا کے صدرجیانی انفنٹینو نے اپنی صدارت کے 10 سال مکمل ہونے کے موقع پر دنیا بھر کی 211 ممبر ایسوسی ایشنز کے صدور کو ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے فٹ بال کی گورننس کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں ان کے غیر متزلزل تعاون کا شکریہ ادا کیا ہے۔ 26 فروری 2016 کو اپنے انتخاب کو یاد کرتے ہوئے، انہوں نے اس …

زیورخ۔27فروری (اے پی پی):فیفا کے صدرجیانی انفنٹینو نے اپنی صدارت کے 10 سال مکمل ہونے کے موقع پر دنیا بھر کی 211 ممبر ایسوسی ایشنز کے صدور کو ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے فٹ بال کی گورننس کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں ان کے غیر متزلزل تعاون کا شکریہ ادا کیا ہے۔

26 فروری 2016 کو اپنے انتخاب کو یاد کرتے ہوئے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے دورِ اقتدار میں فیفا نے ایک ایسے بحران سے نجات حاصل کی جس نے ادارے کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ جیانی انفینٹینو کا کہنا ہے کہ ہم نے فٹ بال کو فیفا میں اور فیفا کو فٹ بال میں واپس لایا ہے اور یہ کامیابی اصلاحات، شفافیت اور ترقی کے اس نئے راستے کی مرہونِ منت ہے جس کا انتخاب ممبر ممالک نے دس سال قبل کیا تھا۔

اپنے خط میں صدر جیانی انفینٹینو نے گزشتہ دہائی کی 11 کلیدی کامیابیوں کی فہرست پیش کی ہے، جن میں سب سے نمایاں ’’فیفا فارورڈ پروگرام‘‘کے تحت ممبر ایسوسی ایشنز کی فنڈنگ میں سات گنا اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ’’ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ سکیم‘‘ کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے، انتظامی شعبوں میں مہارت بڑھانے اور ’’فیفا ایگزیکٹو سمٹس‘‘ کے ذریعے فیصلہ سازی میں تمام ممالک کی شمولیت کو یقینی بنانے کا ذکر کیا۔

کھیل کے معیار کو بہتر بنانے کے حوالے سے انہوں نے 2018 میں وڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کے کامیاب نفاذ اور 2024 میں نسل پرستی کے خلاف عالمی سطح پر متحد موقف کو فیفا کی بڑی اخلاقی فتح قرار دیا۔جیانی انفینٹینو نے بین الاقوامی مقابلوں میں توسیع کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھا، جس کے تحت مردوں کے ورلڈ کپ کو 48 ٹیموں اور خواتین کے ورلڈ کپ کو 32 (اور مستقبل میں 48) ٹیموں تک بڑھایا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ اقوام کو عالمی اسٹیج پر خواب دیکھنے کا موقع مل سکے۔

انہوں نے یوتھ فٹ بال اور کلب فٹ بال کے نئے فارمیٹس، جیسے کہ 2025 کا کلب ورلڈ کپ، کو بھی فٹ بال کے مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ خط کے آخر میں انہوں نے مشکل وقت میں فیفا کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے 1.5 بلین ڈالر کے کووڈ ریلیف پلان اور جنگ زدہ علاقوں کے لیے قائم کردہ ریلیف فنڈ کا تذکرہ کیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فٹ بال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ تقسیم شدہ دنیا میں اتحاد کی ایک عظیم طاقت ہے۔