دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ایوانِ بالا نے جارحیت اور عسکریت پسندی کے خلاف قومی اتحاد کے اعادہ پر مبنی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے، رانا ثناء اللہ خان

اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم پاکستان کی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ایوانِ بالا نے جارحیت اور عسکریت پسندی کے خلاف قومی اتحاد کے اعادہ پر مبنی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔جمعہ کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس کی جانب سے قرارداد پر …

اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم پاکستان کی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ایوانِ بالا نے جارحیت اور عسکریت پسندی کے خلاف قومی اتحاد کے اعادہ پر مبنی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔جمعہ کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس کی جانب سے قرارداد پر بحث کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایوانِ وفاق کی جانب سے قرارداد کی متفقہ منظوری عوام کی اجتماعی خواہشات کی عکاسی اور قومی عزم کی توثیق ہے۔انہوں نے کہا کہ نازک مواقع پر پاکستانی قوم نے ہمیشہ اپنی مسلح افواج پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہی ہے۔حالیہ سرحد پار جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نے مؤثر اور بھرپور جواب دیا تاہم تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارروائی کو ضروری حد تک محدود رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی حامل ہیں اور کسی بھی دشمنانہ اقدام کا فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل اہلیت رکھتی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ سرحد پار سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو ماضی میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کے مواقع دیئے گئے لیکن اگر جارحیت کا سلسلہ جاری رہا تو سختی سے نمٹا جائے گا۔مشیرِ وزیراعظم نے کہا کہ قومی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق امور پر حکومت اور سیاسی قیادت عسکری قیادت کے فیصلوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے۔

بحث کے دوران سینیٹر علی ظفر نے صورتحال سے نمٹنے کے لئے علاقائی سطح پر ایک میکنزم تشکیل دینے کی تجویز دی۔ اس پر رانا ثناء اللہ نے معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ خارجہ کو بھجوانے کی تجویز دی تاکہ دفترِ خارجہ اور متعلقہ سکیورٹی اداروں سے اِن کیمرہ بریفنگ لے کر کسی حتمی فیصلے تک پہنچا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں دوست ممالک نے مذاکرات میں سہولت کاری کی تاہم وہ کوششیں دیرپا نتائج نہ دے سکیں، اس کے باوجود انہوں نے اس تجویز کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ مناسب مرحلے پر اس پر تفصیلی غور کیا جانا چاہئے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قرارداد کا مرکزی پیغام واضح ہے کہ قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور اپنی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہداء کے اہلِخانہ کی مکمل حمایت کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی معاملات کو بہتر طور پر مکالمے کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے تاہم قومی سلامتی کے امور اجتماعی عزم کے متقاضی ہوتے ہیں، وزیراعظم متعدد مواقع پر مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں اور سیاسی بات چیت کو سکیورٹی امور سے الگ رکھتے ہوئے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے اپوزیشن ارکان پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات کو دہشت گردی کے خلاف قومی مؤقف سے الگ رکھا جائے کیونکہ جمہوری سیاست میں اختلاف رائے فطری امر ہے لیکن قومی سلامتی پر اتحاد سب سے مقدم ہے۔