براعظم یورپ میں رواں برس مسلسل شدید گرمی کی لہر اور خشک سالی کے دوران کم سے کم 30 ہزار اضافی اموات ہوئی ہیں
شدید گرمی سے متاثرہ یورپ میں رواں برس 30 ہزار اضافی اموات، رپورٹ

مزید خبریں
لندن ۔22اگست (اے پی پی):براعظم یورپ میں رواں برس مسلسل شدید گرمی کی لہر اور خشک سالی کے دوران کم سے کم 30 ہزار اضافی اموات ہوئی ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس شدید گرمی کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی ہے۔یورپ کے 23 ممالک میں شرحِ اموات کا موازنہ کرنے والے مانیٹرنگ پلیٹ فارم ’یورومومو‘ کے ابتدائی اندازے کے مطابق ’اضافی ہلاکتوں کی تعداد 32 ہزار رہی۔جولائی کے وسط سے اگست کے وسط تک یورپ میں 32 ہزار سے زیادہ اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ گرمی کا موسم تاحال اختتام کو نہیں پہنچا۔یورومومو‘ مختلف ممالک کے حساب سے اموات کے اعداد و شمار جاری نہیں کرتا، تاہم کئی یورپی ممالک کے صحت کے اداروں نے مئی کے آخر سے اگست تک کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔اے ایف پی کے مطابق صرف آسٹریا، بیلجیئم، برطانیہ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، پُرتگال اور سپین میں گرمی سے ہونے والی یا اضافی اموات کی تعداد 33 ہزار تک پہنچ چُکی ہے۔مطابق جُون کا آخری ہفتہ رواں موسمِ گرما کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز ہفتہ رہا، جس میں قریباً 16 ہزار اضافی ہلاکتیں ہوئیں۔







