پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان قانون نافذ کرنے اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، آصف علی زرداری

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان قانون نافذ کرنے، انسدادِ دہشت گردی، منشیات کی روک تھام، انسانی سمگلنگ اور تارکینِ وطن کی غیر قانونی نقل و حمل کے تدارک کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے

اسلام آباد۔22اگست (اے پی پی):صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان قانون نافذ کرنے، انسدادِ دہشت گردی، منشیات کی روک تھام، انسانی سمگلنگ اور تارکینِ وطن کی غیر قانونی نقل و حمل کے تدارک کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ہفتہ کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدرِ مملکت نے یہ بات ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ سیف الدین نصرالدین بن اسماعیل سے ایوانِ صدر میں ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں وفاقی وزیرِ داخلہ و انسدادِ منشیات سید محسن رضا نقوی بھی موجود تھے۔ پاکستان میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر محمد اظہر مزلان، رائل ملائیشیا پولیس کے سپیشل برانچ کے ڈائریکٹر ابراہیم داروس اور ملائیشین محکمہ جیل خانہ جات کے ڈپٹی کمشنر جنرل برائے بحالیِ اصلاحات حفیظ عثمان سمیت دیگر حکام بھی معزز مہمان کے ہمراہ تھے۔ ملائیشین وزیر اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے ساتھ اپنے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے جو مشترکہ ایمان، ثقافت، باہمی احترام اور عوامی سطح پر مضبوط روابط پر استوار ہیں۔ صدرِ مملکت نے ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے بالخصوص داخلی سلامتی، امیگریشن اور قانونی و عدالتی امور میں ہونے والی مثبت پیش رفت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ اور تعاون سے ان کے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے اور باہمی دلچسپی کے امور سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ ملاقات میں دوطرفہ تجارت کے فروغ سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔ صدرِ مملکت نے ملائیشیا میں پاکستانی مصنوعات کے لیے مزید وسیع مارکیٹ رسائی کے امکانات تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان مصنوعات میں چاول، آلو، گندم، پولٹری اور جانوروں کی خوراک سمیت ملائیشیا میں طلب رکھنے والی دیگر اشیاء شامل ہیں۔ ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ نے صدرِ مملکت کو بتایا کہ 2026ء پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کا 69 واں سال ہے، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات ملائیشیا کی آزادی کے بعد 1957ء میں قائم ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے مختلف شہروں اور ملائیشیا کے درمیان ہفتہ وار 14 پروازیں چل رہی ہیں جبکہ پروازوں کی تعداد میں مزید اضافے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ صدرِ مملکت نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ملائیشین وزیر کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو مزید مستحکم کرنے اور پاکستان و ملائیشیا کے دیرینہ اور کثیرالجہتی تعلقات کو مزید گہرا بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔