امداد میں کٹوتی صومالیہ میں بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی،یونیسف

یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ صومالیہ میں امداد میں کٹوتیاں انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی خدمات کو کام سے روکنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ العربیہ کے مطابق یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک جاری تنازع اور بگڑتے ہوئے نقل مکانی کے بحران کے ساتھ ساتھ صومالیہ موسمیاتی بحران کا بھی سامنا کر رہا ہے

اقوام متحدہ ۔22اگست (اے پی پی):یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ صومالیہ میں امداد میں کٹوتیاں انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی خدمات کو کام سے روکنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ العربیہ کے مطابق یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک جاری تنازع اور بگڑتے ہوئے نقل مکانی کے بحران کے ساتھ ساتھ صومالیہ موسمیاتی بحران کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ یونیسف نے کہا کہ جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے ، بچے ہی اس کی قیمت چکاتے ہیں۔صومالیہ کے اپنے دورے کے بعد تنظیم کے ترجمان جیمز ایلڈر نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ انسانی امداد میں غیر معمولی کٹوتیوں کے نتیجے میں پہلے ہی سینکڑوں غذائی اور صحتی مراکزبند ہو چکے ہیں۔ تعلیم اور تحفظ جیسی دیگر خدمات کی فراہمی ختم ہو رہی ہے۔ متوقع ہے کہ یہ رجحان جاری رہے گا۔انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ شدید ترین غذائی قلت اور اس کی پیچیدگیوں کے علاج کے لیے "سٹیبلائزیشن سینٹرز” میں داخل کیے جانے والے بچوں کی تعداد میں اس سال کے پہلے چھ مہینوں میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیمار بچوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے نہیں بلکہ حفاظتی اور کمیونٹی غذائی خدمات میں کمی کی وجہ سے ایسا ہوا۔کینیا کے دارالحکومت نیروبی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کم مراکز کا مطلب ماؤں اور ان کے بچوں کے لیے طویل ترین سفر ہے۔ طویل ترین سفر کا مطلب علاج میں تاخیر ہے۔ علاج میں تاخیر کا مطلب زیادہ شدید بیماری اور اس موت کا بڑا خطرہ ہے جس سے بچا جا سکتا ہے۔ ایلڈر نے کہا کہ وسائل میں ایسے وقت میں کٹوتی کی جا رہی ہے جب صومالیہ کی لڑکیوں اور لڑکوں پر دباؤ شدید ہو رہا ہے۔ ملک کے شمال میں شدید خشک سالی اور مشرق وسطیٰ میں تنازع سے جڑی ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے دوران ہی غیر معمولی طور پر شدید ایل نینو کے نتیجے میں آنے والے مہینوں میں متوقع سیلاب کا بھی سامنا ہے۔