بیجنگ۔1مارچ (اے پی پی):چینی وزارتِ خارجہ اور ایران میں چینی سفارت خانے اور قونصلیٹس نے اتوار کوچینی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر فوجی حملوں کے بعد مناسب ذرائع سے جتنی جلد ممکن ہو محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہو جائیں۔گلوبل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ چینی سفارت خانے نے کہا کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فوجی کارروائیاں …
امریکا اور اسرائیل کا ایران پر حملہ، چین کی اپنے شہریوں کو جلد از جلد ایران چھوڑنے کی ہدایت

مزید خبریں
بیجنگ۔1مارچ (اے پی پی):چینی وزارتِ خارجہ اور ایران میں چینی سفارت خانے اور قونصلیٹس نے اتوار کوچینی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر فوجی حملوں کے بعد مناسب ذرائع سے جتنی جلد ممکن ہو محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہو جائیں۔گلوبل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ چینی سفارت خانے نے کہا کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فوجی کارروائیاں شروع کیں۔
چینی وزارتِ خارجہ اور ایران میں چینی سفارت خانے اور قونصلیٹس نے چینی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حالات پر گہری نظر رکھیں، ذاتی حفاظت کے لئے اقدامات کریں اور مناسب ذرائع سے جلد از جلدمحفوظ علاقوں میں منتقل ہو جائیں۔چینی سفارت خانے نے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق کئی زمینی راستے اب بھی کھلے ہیں۔ چینی شہری آستارا بارڈر کراسنگ کے ذریعے بغیر ویزا آذربائیجان داخل ہو سکتے ہیں، جو روزانہ صبح 9تاشام 4بجے تک کھلا رہتا ہے۔ آرمینیا میں اگارک کراسنگ کے ذریعے بھی بغیر ویزا داخلہ ممکن ہے۔
ترکیہ میں زمینی راستے وان، اگری اور حکاری صوبوں کے بارڈر کراسنگ کے ذریعے کھلے ہیں، جہاں چینی پاسپورٹ ہولڈرز کو بھی بغیر ویزا داخلہ کی اجازت ہے۔جو لوگ عراق جانا چاہتے ہیں وہ شلمچہ بارڈر کراسنگ کے ذریعے داخل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ پہلے سے الیکٹرانک ویزا حاصل کریں یا آمد پر عارضی ویزا کے لیے درخواست دیں۔
سفارت خانے نے کہا کہ ایران اور ہمسایہ ممالک میں چینی سفارت خانے اور قونصلیٹس چینی شہریوں کی رہائش اور انخلا میں مدد فراہم کریں گے۔چینی سفارت خانے نے اسرائیل میں بھی اتوار کوایک نوٹس جاری کیا جس میں اسرائیل میں موجود چینی شہریوں کے رہائش اور انخلاکے لیے رجسٹریشن کی ہدایت دی گئی، امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں موجود متعدد چینی سفارت خانوں ، بشمول ترکیہ، آذربائیجان اور عراق ، نے ایران سے ان ممالک میں منتقل ہونے والے چینی شہریوں کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔








