اسلام آباد۔1مارچ (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رمضان المبارک کے آغاز کے بعد کھجوروں کی مانگ میں اضافہ ہو ا ہے، کھجور سمیت افطاری میں استعمال ہونے والی دیگر اہم اشیا کی خریداری کے لیے بازاروں میں خریداروں کا رش ہے۔شہر بھر کے خوردہ فروشوں نے بڑے تجارتی مراکز اور ہفتہ وار بازاروں میں خریداروں کی تعداد میں اضافہ اور گزشتہ مہینوں کے مقا بلہ میں فروخت میں …
اسلام آباد میں مقدس ماہ رمضان کے دوران کھجور کی خریداری میں نمایا ں اضافہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔1مارچ (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رمضان المبارک کے آغاز کے بعد کھجوروں کی مانگ میں اضافہ ہو ا ہے، کھجور سمیت افطاری میں استعمال ہونے والی دیگر اہم اشیا کی خریداری کے لیے بازاروں میں خریداروں کا رش ہے۔شہر بھر کے خوردہ فروشوں نے بڑے تجارتی مراکز اور ہفتہ وار بازاروں میں خریداروں کی تعداد میں اضافہ اور گزشتہ مہینوں کے مقا بلہ میں فروخت میں نمایاں اضافہ کے بارے میں بتایا ہے ۔
تاجر طبقہ نے رمضان کے دوران کھجور کی مذہبی اہمیت کے حوالہ سے اسکی فروخت میں اضافہ کے بارے میں بتایا ہے کیونکہ بہت سے لوگ کھجور اور پانی سے روزہ افطار کرنے کی سنت پر عمل کرتے ہیں۔کھجور کی مقبول اقسام میں اصیل، ایرانی، عجوہ، مبروم اور دیگر شامل ہیں جن کی قیمتیں معیار کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں ، درآمدی کھجور یں مہنگی جبکہ مقامی اقسام نسبتاً سستی ہیں۔
آبپارہ مارکیٹ اور کراچی کمپنی کے دکانداروں نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ اس سال مقامی اور درآمدی کھجوروں کی وسیع اقسام مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔بلوچستان ڈرائی فروٹ شاپ کے ایک دکاندار انور نے اے پی پی کو بتایا کہ ایرانی کھجور اس وقت سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اقسام میں شامل ہے اور لوگ سب سے زیادہ ایرانی کھجور خرید رہے ہیں۔ اسی طرح مبروم اور عجوہ کی بھی مانگ ہے لیکن عجوہ مہنگی ہے اور ہر کوئی اسے نہیں خرید سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کھجور کی قیمتیں تقریباً 400 روپے فی کلو گرام سے شروع ہوتی ہیں اور قسم اور معیار کے لحاظ سے 5,600 روپے فی کلوگرام تک ہیں۔ ایرانی کھجور تقریباً 1200 روپے فی کلو گرام میں فروخت ہو رہی ہے۔ اگرچہ بہت سے صارفین نرخوں کو مناسب سمجھتے ہیں لیکن بعض خریدار اعلیٰ اقسام کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
خریداروں نے حکام پر زور دیا ہے کہ منافع خوری کو روکنے کے لیے مارکیٹ کی نگرانی کی ضرورت ہے۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے جی۔9 مرکز کے ایک خوردہ فروش نے کہا کہ صارفین رمضان کے دوران معیار کو ترجیح دیتے ہیں، چاہے قیمتیں تھوڑی زیادہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عام مہینوں کے مقابلے میں رمضان میں کحجوروں کی فروخت دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔صارفین نے جاری رجحان کے بارے میں ملے جلے خیالات کا اظہار کیا۔ جی ۔9 کے رہائشی انعام نے کہا کہ رمضان میں کھجوریں خریدنا میرے خاندان کی ایک پسندیدہ روایت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم افطار کے لیے اچھے معیار کی کھجور کی خریداری کو یقینی بناتے ہیں۔کھجور کھانا ایک سنت ہے اور صحت بخش بھی ہے اس لیے ہم معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔مارکیٹ میں موجود ایک اور گاہک گلمینا نے پریمیم اقسام کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال عجوہ زیادہ سستی تھی لیکن اس بار قیمتیں زیادہ لگ رہی ہیں اس لیے ہم ایرانی کھجوروں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ کی مجبوریوں کے باوجود رمضان کی شاپنگ لسٹ میں کھجوریں ایک ضروری چیز ہیں۔ہول سیل ڈیلرز نے کہا کہ طلب کو پورا کرنے کے لیے کھجور پیدا کرنے والے بڑے علاقوں سے سپلائی میں اضافہ کیا گیا ہے اور خاص طور پررمضان میں قلت سے بچنے کے لیے سٹاک کو باقاعدگی سے پورا کیا جاتا ہے۔
ایک نجی کلینک کی ماہر غذائیت آمنہ نے اے پی پی کو بتایا کہ کھجور قدرتی شکر، فائبر اور ضروری معدنیات سے بھرپور ہوتی ہے جو دن بھر کے روزے کے بعد توانائی بحال کرنے کے لیے ایک مثالی غذا ہے۔ کھجور کی غذائی قدر، مذہبی روایت کے ساتھ مل کر رمضان المبارک کے دوران اس کی طلب میں اضافہ کر دیتی ہے۔








