لندن۔2مارچ (اے پی پی):مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 12 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاس کے مطابق پیر کو کاروباری سرگرمیوں کے آغاز پر آئی سی ای ایکسچینج میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 12.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مئی کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 81 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر کے …
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 12 فیصد اضافہ

مزید خبریں
لندن۔2مارچ (اے پی پی):مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 12 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاس کے مطابق پیر کو کاروباری سرگرمیوں کے آغاز پر آئی سی ای ایکسچینج میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 12.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مئی کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 81 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر کے 81.79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جو 23 جون 2025 کے بعد خام تیل کی قیمتوں کی بلند ترین سطح ہے، بعد ازاں ، کاروباری سرگرمیوں کے اختتام تک خام تیل کی قیمت کم ہو کر 78.88 ڈالر ہو گئی۔توانائی تحقیقاتی ادارے Rystad Energy کے تجزیے کے مطابق اگر ایران میں تنازع جاری رہتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت معطل ہو جاتی ہے تو قیمتوں میں مزید 20 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے ماہرین کے مطابق مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمتوں میں بھی 25 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی، جس میں تہران سمیت بڑے ایرانی شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ وائٹ ہاؤس نے اس اقدام کو ایران کی مبینہ میزائل اور جوہری خطرات کے تناظر میں درست قرار دیا ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔







