ریاض۔2مارچ (اے پی پی):خلیج تعاون کونسل(جی سی سی) کی وزارتی کونسل نے خلیجی ریاستوں کے کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے حق کی توثیق کی ہے۔ اردو نیوز کے مطابق جی سی سی کی وزارتی کونسل کا 50 واں غیرمعمولی اجلاس گزشتہ روز وڈیو لنک کے ذریعے بحرینی وزیرخارجہ اور کونسل کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹرعبداللطیف الزیانی کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن …
کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں،جی سی سی وزارتی کونسل

مزید خبریں
ریاض۔2مارچ (اے پی پی):خلیج تعاون کونسل(جی سی سی) کی وزارتی کونسل نے خلیجی ریاستوں کے کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے حق کی توثیق کی ہے۔ اردو نیوز کے مطابق جی سی سی کی وزارتی کونسل کا 50 واں غیرمعمولی اجلاس گزشتہ روز وڈیو لنک کے ذریعے بحرینی وزیرخارجہ اور کونسل کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹرعبداللطیف الزیانی کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔
اجلاس میں سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے شرکت کی۔ اجلاس میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سعودی عرب، عمان، قطر اور کویت پر 28 فروری کو شروع ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں پربات کی گئی اور شہری تنصیبات اور رہائشی علاقوں پر ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا گیا جبکہ خطے میں سلامتی اور امن کے حصول کے لیے جاری کوششوں کو مربوط کرنے کے لیے طریقہ کار اور اقدامات پر بھی بات کی گئی ۔
وزارتی کونسل نے اردن سمیت جی سی سی ممالک کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کی مذمت کی جو ان ممالک کی خودمختاری اور ہمسائیگی کے اصولوں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کونسل نے جی سی سی ممالک کے درمیان مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ اجلاس میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی کہ رکن ممالک کی سلامتی ناقابل تقسیم ہے۔ کسی بھی رکن ریاست پر کوئی بھی حملہ جی سی سی کی تمام ریاستوں پر براہ راست حملہ تصور ہوگا۔
کونسل نے رکن ممالک کی مسلح افواج اور فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی اور تیاری کی بھی تعریف کی جنہوں نے اعلی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ میزائل اورڈرون حملوں کا مقابلہ اور ان کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔ اجلاس میں اس بات کی بھی توثیق کی گئی کہ جی سی سی ممالک کو اپنی سلامتی، امن و استحکام ، اپنے علاقے وشہریوں کے تحفظ کےلیے تمام ضروری اقدامات کا حق ہے جس میں جارحیت کا جواب دینے کا آپشن شامل ہے۔
وزارتی کونسل نے خطے میں سلامتی اور امن و استحکام کی بحالی کے لیے حملوں کو فوری طور پر روکنے، خطے میں فضائی اور بحری سلامتی اور سمندری گزرگاہوں کے تحفظ پر زور دیا۔ اجلاس میں سپلائی چین کے تحفظ اور توانائی کی عالمی مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ اجلاس میں ایران کے حوالے سےعمان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ جی سی سی ممالک نے ہمیشہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور تنازعات کے حل کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
اجلاس کے ارکان نے یہ بھی کہا کہ ممالک کے مابین تنازعات وبحران کے حل کے لیے سفارتکاری کا راستہ انتہائی اہم ہوتا ہے، کسی بھی قسم کی کشیدگی سےعلاقائی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے جوعالمی امن کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔اجلاس کے آخر میں وزارتی کونسل نے حملوں میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت جبکہ زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہارکیا۔








