علم کسی قوم کے مستقبل کا ضامن ہے، امریکی خاتونِ اول کا سلامتی کونسل سے خطاب

اقوام متحدہ۔3مارچ (اے پی پی):امریکی خاتون اول نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ کہا ہے کہ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب تمام معاشروں میں علم اور فہم کی قدر کی جائے۔ انہوں نے گزشتہ روز 15 رکنی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کے دوران ’’مسلح تنازعات میں بچے‘‘ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ ان کا ملک دنیا بھر کے …

اقوام متحدہ۔3مارچ (اے پی پی):امریکی خاتون اول نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ کہا ہے کہ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب تمام معاشروں میں علم اور فہم کی قدر کی جائے۔ انہوں نے گزشتہ روز 15 رکنی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کے دوران ’’مسلح تنازعات میں بچے‘‘ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ ان کا ملک دنیا بھر کے تمام بچوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے تعلیم کو دی جانے والی اہمیت ان کے ممالک کے بنیادی نظریات کی تشکیل کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو قوم علم کو مقدس سمجھتی ہے وہ اپنی کتابوں، اپنی زبان، اپنی سائنس کی حفاظت کرتی ہے۔ وہ اپنے مستقبل کی حفاظت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ فکر باہمی فہم، اخلاقی استدلال اور دوسروں کے لیے برداشت کو فروغ دیتا ہے۔

امریکی خاتون اول نے کہا کہ جو بچے علم پر مبنی ثقافت میں پروان چڑھتے ہیں وہ خوداعتماد بنتے ہیں، جدت پیدا کرتے ہیں، تعمیر کرتے ہیں، مقابلہ کرتے ہیں اور مضبوط اقدار کو برقرار رکھتے ہیں۔ ان کا علم ہمدردی کو فروغ دیتا ہے جو جغرافیہ، مذہب، نسل، صنف اور مقامی روایات سے بالاتر ہوتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جو بچے جہالت پر مبنی ماحول میں پرورش پاتے ہیں وہ بدانتظامی اور بعض اوقات تنازعات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی قوم سوچ پر پابندی لگاتی ہے تو وہ اپنے ہی مستقبل کو محدود کر دیتی ہے۔

مزید خبریں