اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلویز کی آمدن میں اضافے اور کمرشل اثاثوں کے مؤثر اور شفاف انتظام کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں تاکہ قومی ادارے کی مالی پوزیشن کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ایوان بالا کے اجلاس میں منگل کو پاکستان ریلویز کی مالی کارکردگی اور کمرشل جائیدادوں سے متعلق اہم تفصیلات ایوان میں پیش کی گئیں۔ وفاقی …
پاکستان ریلویز کی آمدن میں اضافے اور کمرشل اثاثوں کے مؤثر و شفاف انتظام کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں ،وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی

مزید خبریں
اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلویز کی آمدن میں اضافے اور کمرشل اثاثوں کے مؤثر اور شفاف انتظام کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں تاکہ قومی ادارے کی مالی پوزیشن کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ایوان بالا کے اجلاس میں منگل کو پاکستان ریلویز کی مالی کارکردگی اور کمرشل جائیدادوں سے متعلق اہم تفصیلات ایوان میں پیش کی گئیں۔
وفاقی وزیر ریلوے نے تحریری جواب میں بتایا کہ ریونیو بڑھانے کے لیے فریٹ اور مسافر آپریشنز میں بہتری، زمینوں اور دیگر کمرشل اثاثوں کے بہتر استعمال اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے مواقع کو فروغ دینے پر توجہ دی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد نہ صرف ریلوے کو خسارے سے نکالنا ہے بلکہ اسے ایک خود کفیل اور منافع بخش ادارہ بنانا بھی ہے، تاکہ مسافروں کو معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں اور قومی معیشت میں ادارے کا کردار مزید مؤثر ہو۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران ریلوے کی آمدن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مالی سال 2021-22 میں فریٹ آپریشنز کی مد میں ریونیو 23 ارب 12 کروڑ روپے تھا، جو مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 28 ارب 11 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح پیسنجر آپریشنز سے حاصل ہونے والی آمدن گزشتہ تین برس میں 30 ارب روپے سے بڑھ کر 49 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
وفاقی وزیر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ریلوے کی لیز پر دی جانے والی زمین سے گزشتہ چار برسوں کے دوران 13 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا۔کمرشل جائیدادوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ملک بھر میں موجود 34 ہزار 763 کمرشل یونٹس میں سے 2 ہزار 355 یونٹس اس وقت ناجائز قابضین کے زیر استعمال ہیں۔
شہر وار تفصیلات کے مطابق کراچی میں 589، سکھر میں 1538، کوئٹہ میں 123، ملتان میں 36، لاہور میں 24، پشاور میں 6 جبکہ سی ایس ایف ڈائریکٹوریٹ میں 38 جائیدادوں پر ناجائز قبضہ موجود ہے۔مزید بتایا گیا کہ 34 ہزار 763 کمرشل جائیدادوں کی تعمیر و مرمت پر گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 30 کروڑ 64 لاکھ روپے کے اخراجات آئے۔
وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ ریلوے کی آمدن میں اضافے اور کمرشل اثاثوں کے بہتر انتظام کے لیے اقدامات جاری ہیں تاکہ قومی ادارے کی مالی پوزیشن مزید مستحکم کی جا سکے۔








