اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے چیف اسٹیٹسٹیکل آفیسر محمد سرفراز نے درست اور مستند اعداد و شمار کی تیاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مؤثر پالیسی سازی کے لیے ڈیٹا پر مبنی طرزِ حکمرانی ناگزیر ہے،بروقت اور قابل اعتماد شماریات پائیدار ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔اے پی پی کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ اکیسویں …
ڈیٹا پر مبنی طرزِ حکمرانی مؤثر پالیسی سازی کے لیے ناگزیر ہے،چیف اسٹیٹسٹیکل آفیسرپی بی ایس محمد سرفراز

مزید خبریں
اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے چیف اسٹیٹسٹیکل آفیسر محمد سرفراز نے درست اور مستند اعداد و شمار کی تیاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مؤثر پالیسی سازی کے لیے ڈیٹا پر مبنی طرزِ حکمرانی ناگزیر ہے،بروقت اور قابل اعتماد شماریات پائیدار ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔اے پی پی کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ اکیسویں صدی ڈیٹا کی صدی ہے۔ مستند شماریاتی شواہد کے بغیر مؤثر پالیسی منصوبہ بندی ممکن نہیں۔ ڈیٹا کے تناظر کے بغیر ہم سماجی و معاشی حقائق کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتے۔ آج کی مؤثر حکمرانی شواہد پر مبنی فیصلہ سازی سے وابستہ ہے۔
محمد سرفراز نے کہا کہ قومی ادارۂ شماریات کی حیثیت سے پی بی ایس زراعت، لیبر اور سماجی شعبوں سمیت اہم شعبہ جات میں پالیسی سازی کے لیے درست ڈیٹا فراہم کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے پاکستان کی پہلی مکمل ڈیجیٹل ساتویں مردم و خانہ شماری کو ایک تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کی سب سے بڑی ڈیجیٹل مردم شماریوں میں سے ایک تھی۔ان کا کہنا تھاکہ یہ وقت کی ضرورت تھی، ڈیجیٹل مردم شماری نے ہمارے شماریاتی نظام کو مضبوط بنایا اور ڈیٹا کی درستگی اور بروقت فراہمی کو بہتر کیا ہے۔ساتویں زرعی مردم شماری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طویل وقفے کے بعد ہونے والی اس مشق سے ضلع سطح پر فصلوں کے رجحانات، کاشت کے انداز اور مویشیوں کی صورتحال سے متعلق جامع معلومات حاصل ہوں گی۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے۔ یہ مردم شماری پالیسی سازوں کو یہ تعین کرنے میں مدد دے گی کہ کون سی فصلیں کن اضلاع میں کاشت ہو رہی ہیں اور مویشیوں کے رجحانات کس سمت جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈیٹا حکومت کو ہدفی سبسڈی اسکیمیں متعارف کرانے اور وسائل کی مؤثر تقسیم میں معاون ثابت ہوگا۔ڈیٹا ضلع، مائیکرو اور علاقائی سطح پر تجزیے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے یہ طے کرنے میں مدد ملتی ہے کہ پیداوار بڑھانے کے لیے کہاں مداخلت کی ضرورت ہے۔بدلتے ہوئے غذائی رجحانات پر روشنی ڈالتے ہوئے محمد سرفراز نے کہا کہ نئی نسل خصوصاً جنریشن زی (1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) کی غذائی ترجیحات ماضی کی نسلوں سے مختلف ہیں، جس کے باعث زرعی پیداوار اور خام مال کی طلب میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے غذائی عادات بدل رہی ہیں، اسی طرح فصلوں اور زرعی اجناس کی طلب میں بھی تبدیلی آئے گی۔ ان طویل مدتی رجحانات کا درست اندازہ صرف مسلسل اور قابلِ اعتماد ڈیٹا سے ہی ممکن ہے۔لیبر مارکیٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حال ہی میں شروع کیے گئے لیبر فورس سروے اور ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے سے افرادی قوت میں شرکت کی شرح، صنفی بنیادوں پر روزگار کے رجحانات اور گھریلو معاشی حالات سے متعلق اہم معلومات حاصل ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس ہنر مند افرادی قوت موجود ہے اور اسے مؤثر انداز میں بروئے کار لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اضافی افرادی قوت، خصوصاً بیرون ملک روزگار کے لیے، عالمی تقاضوں کے مطابق مہارتوں کی ہم آہنگی ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نےکہا کہ پائیدار ترقی اور مؤثر حکمرانی اسی وقت ممکن ہے جب پالیسیوں کی بنیاد مضبوط اور بروقت دستیاب ڈیٹا پر مبنی ہو۔








