مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے پارٹی آئین میں ترمیم کی منظوری دے دی کوئی بھی شخص جو سرکاری عہدہ کا حامل نہ ہو، اس پر پارٹی کا سربراہ بننے پر کوئی قدغن نہیں ہے، پارٹی آئین میں ترمیم سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے چار سالہ دور پر اطمینان کے اظہار پر مبنی قرارداد منظور اسلام آباد ۔ 2 اکتوبر (اے پی پی) مسلم لیگ (ن) کی …
مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے پارٹی آئین میں ترمیم کی منظوری دے دی

مزید خبریں
مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے پارٹی آئین میں ترمیم کی منظوری دے دی
کوئی بھی شخص جو سرکاری عہدہ کا حامل نہ ہو، اس پر پارٹی کا سربراہ بننے پر کوئی قدغن نہیں ہے، پارٹی آئین میں ترمیم
سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے چار سالہ دور پر اطمینان کے اظہار پر مبنی قرارداد منظور
اسلام آباد ۔ 2 اکتوبر (اے پی پی) مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے پارٹی آئین میں ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے چار سالہ دور پر اطمینان کے اظہار پر مبنی ایک قرارداد کی بھی منظوری دی ہے۔ پیر کو مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین سینیٹر راجہ ظفر الحق کی زیر صدارت پنجاب ہاﺅس میں ہوا۔ اجلاس میں مرکزی مجلس عاملہ کے ارکان نے شرکت کی۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کو مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے حوالہ سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف پر اعتماد اور ان کے چار سالہ دور حکومت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور اس سلسلے میں وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے چار سالہ دور حکومت پر اطمینان اور ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتی ہے۔ مرکزی مجلس عاملہ نے مسلم لیگ (ن) کے پارٹی آئین میں ترمیم کی بھی منظوری دی جس کے تحت کوئی بھی شخص جو سرکاری عہدہ کا حامل نہ ہو، اس پر پارٹی کا سربراہ بننے پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں وزیر داخلہ احسن اقبال نے ایک مذمتی قرارداد پیش کی کہ آج صبح احتساب عدالت کے باہر رینجرز نے انہیں اندر جانے سے روکا جس سے ان کا استحقاق مجروح ہوا ہے، ان کی یہ قرارداد بھی مرکزی مجلس عاملہ نے منظور کر لی۔








