اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):اقوا م متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے میدان میں پیش رفت خطرے سے دوچار ہے اور دنیا بھر میں خواتین اور لڑکیاں اس وقت ایک نہایت مشکل مرحلے سے گزر رہی ہیں جہاں جمہوری عمل میں پسپائی، بڑھتے ہوئے تنازعات اور معاشی دباؤ نے ان کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔شنہوا کے مطابق …
دنیا میں صنفی مساوات کو شدید خطرات لاحق، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

مزید خبریں
اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):اقوا م متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے میدان میں پیش رفت خطرے سے دوچار ہے اور دنیا بھر میں خواتین اور لڑکیاں اس وقت ایک نہایت مشکل مرحلے سے گزر رہی ہیں جہاں جمہوری عمل میں پسپائی، بڑھتے ہوئے تنازعات اور معاشی دباؤ نے ان کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے یواین کی سینئر عہدیدار ہنڈرکس نے کہا کہ اس وقت خواتین اور لڑکیاں جمہوری تنزلی، بڑھتے تنازعات، معاشی دباؤ اور سماجی پابندیوں جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ "تمام خواتین اور لڑکیوں کے لیے انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا اور مضبوط کرنا”کے عالمی اجراء کے موقع پر کہی، جو آئندہ انٹر نیشنل وویمن ڈے اور خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن کے 70ویں اجلاس سے قبل جاری کی گئی۔رپورٹ کے مطابق دنیا میں اب تک کوئی بھی ملک ایسا نہیں جہاں خواتین اور مردوں کے درمیان مکمل قانونی برابری قائم ہو سکی ہو۔ عالمی سطح پر خواتین کو مردوں کے مقابلے میں صرف 64 فیصد قانونی حقوق حاصل ہیں۔
مزید یہ کہ 54 فیصد ممالک میں عصمت دری کی تعریف رضامندی کی بنیاد پر نہیں جبکہ 72 فیصد ممالک میں کسی نہ کسی صورت میں کم عمری کی شادی کی اجازت کی صورت میں موجود ہے۔ اسی طرح 44 فیصد ممالک میں مساوی کام کے بدلے مساوی تنخواہ کا قانون بھی لازمی نہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ دنیا کے 87 فیصد ممالک نے گھریلو تشدد کے خلاف قوانین متعارف کرائے ہیں اور گزشتہ دہائی میں 40 سے زائد ممالک نے خواتین اور لڑکیوں کے آئینی تحفظ کو مضبوط بنایا ہے، تاہم سماجی تعصبات، بدنامی کا خوف اور متاثرین کو موردِ الزام ٹھہرانے کی روایت انصاف کے حصول میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما بہوث نے کہا کہ جب خواتین اور لڑکیوں کو انصاف سے محروم رکھا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے میں قانون کی حکمرانی اور اداروں پر عوامی اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ خواتین اور لڑکیوں کو آن لائن ہراسانی اور ڈیجیٹل تشدد کا بھی بڑھتا ہوا خطرہ لاحق ہے جبکہ مسلح تنازعات میں جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے واقعات میں گزشتہ دو برسوں کے دوران 87 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یواین وویمن نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ، انصاف تک رسائی اور مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ہر خاتون محفوظ، بااختیار اور مساوی زندگی گزار سکے۔








