سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں، آزاد کشمیر اور پنجاب میں جنگلی حیات کےلیے بڑھتے ہوئے خدشات

پشاور۔ 05 مارچ (اے پی پی):آزاد کشمیر کے بلند و بالا میدانی علاقوں میں خطرے سے دوچار کشمیر مارخور جو کبھی برفانی ندیوں سے سیراب ہونے والی چٹانوں پر آزادانہ چھلانگیں لگاتے تھے، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد بڑھتے ہوئے خطرے کی زد میں ہیں، اسی طرح دریائے سندھ کے کناروں پر مچھیرے وہ وقت یاد کرتے ہیں جب دریا کی لہریں زندگی …

پشاور۔ 05 مارچ (اے پی پی):آزاد کشمیر کے بلند و بالا میدانی علاقوں میں خطرے سے دوچار کشمیر مارخور جو کبھی برفانی ندیوں سے سیراب ہونے والی چٹانوں پر آزادانہ چھلانگیں لگاتے تھے، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد بڑھتے ہوئے خطرے کی زد میں ہیں، اسی طرح دریائے سندھ کے کناروں پر مچھیرے وہ وقت یاد کرتے ہیں جب دریا کی لہریں زندگی کی امید بن جاتی تھیں، آج تحفظِ ماحولیات کے ماہرین کو ڈر ہے کہ اگر مغربی دریاؤں میں پانی کی رفتار کم ہوئی تو کشمیر مارخور اور پورے ماحولیاتی نظام کی نازک دھڑکن بھی سست پڑ جائے گی۔ بھارت کی جانب سے غیرقانونی طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے عمل نے ماحولیات اور جنگلی حیات کے ماہرین میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جنہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں کمی آئی تو آزاد کشمیر اور پنجاب میں جنگلی حیات اور آبی ماحولیاتی نظام کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا کے سابق چیف کنزرویٹر ڈاکٹر ممتاز ملک نے پانی کو ہمالیائی حیاتیاتی تنوع کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے بغیر کوئی جنگلی حیات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلی حیات کی بقا کےلیے پانی ناگزیر ہے۔ اگر مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں کمی آتی ہے تو آزاد کشمیر اور پنجاب میں تحفظ کی کوششیں بری طرح متاثر ہوں گی اور علاقائی فوڈ چین متاثر ہوگا۔ آزاد کشمیر کا منفرد منظرنامہ نیم مرطوب جنگلات سے لے کر بلند میدانوں تک پھیلا ہوا ہے، یہاں پر وہ مسکن واقع ہیں جو کشمیر مارخور، برفانی چیتے، ہمالیائی بھورے ریچھ، کستوری ہرن، ہمالیائی گورل اور یوریشین لنکس جیسی خطرے سے دوچار جنگلی حیات کے اقسام کی رہنے کی جگہ ہیں۔ یہ جنگلی حیات کے اقسام میٹھے پانی کے بلا تعطل نظام پر انحصار کرتی ہیں جو سندھ طاس خاص طور پر مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب سے سیراب ہوتا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ کم بہاؤ نہ صرف پینے کے ذرائع کو کم کر دے گا بلکہ نباتات کو بھی تباہ کرے گا، جنگلی حیات کے مسکن کے نقصان میں تیزی لائے گا اور افزائشِ نسل کے نظام کو درہم برہم کر دے گا۔

دریائے سندھ، دریائے جہلم اور دریائے چناب خطے کی ماحولیاتی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ زراعت اور پینے کے پانی کے علاوہ یہ آبگاہوں(ویٹ لینڈز)، جنگلات اور پہاڑی ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر ممتاز ملک کے مطابق جب پانی نہیں ہوگا تو جنگلی حیات کےلیے کوئی مسکن نہیں ہوگا اور جب یہ مسکن ختم ہو جائیں گے تو تحفظ کے پروگرام بھی ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کی دستیابی میں کمی سے بھیڑیے، ریسس میکاک (بندر)، پینگولن، ہرن اور دیگر اقسام کی آبادی کم ہو سکتی ہے جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں اور مسکن کے ٹوٹ پھوٹ کے دباؤ کا شکار ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنسز کے سابق چیئرمین پروفیسر شفیق الرحمن نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سند طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں سے پیدا ہونے والا مستقل خطرہ جنگلی حیات اور آبی وسائل سے بھی آگے تک جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع ماحولیاتی نظام کو صحت مند رکھتے ہیں اور پائیدار زراعت اور غذائی تحفظ میں مدد دیتے ہیں، پانی کے بہاؤ میں کمی صحرا زدگی اور خشک سالی کے خطرے کو بڑھاتی ہے، اس کا مطلب خطے کے لاکھوں لوگوں کے لیے بھوک، غربت اور غذائی عدم تحفظ ہے۔

پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے۔ بارشوں کے کم ہوتے پیٹرن اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے بدلتے عمل نے پہلے ہی ماحولیاتی نظام اور جنگلی حیات کے تحفظ پر دباؤ ڈال رکھا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ پانی کی قلت سے صحرا زدگی میں اضافہ، جنگلی حیات اور شہد کی مکھیوں کی ہجرت اور باغات و فصلوں کی تباہی جیسے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ پانی کی قلت محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ انسانی بقا کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے تحفظِ ماحولیات کے عالمی اداروں اور مالیاتی اداروں، خاص طور پر عالمی بینک سے مداخلت کرنے اور بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں سے روکنے کا مطالبہ کیا۔ عالمی بینک جس نے 1960 میں سندھ طاس معاہدے کی ثالثی کی تھی، سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے اور خطے میں ماحولیاتی استحکام کا تحفظ کرے۔ ماہرین نے ورلڈ وائلڈ فنڈز (ڈبلیو ڈبلیو ایف) ، آئی یو سی این، وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی اور سائیٹس سمیت تحفظِ حیات کے عالمی اداروں کے بھارت کی خلاف ورزیوں پر ناقص ردعمل پر بھی سوال اٹھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمالیہ میں حیاتیاتی تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) کے نقصان کے اثرات جنوبی ایشیا کے پورے ماحولیاتی نیٹ ورک پر پڑیں گے۔ پرندوں کی اقسام جیسے ہمالیائی مونال، ہمالیائی سنو کاک، چکور اور یوریشین ایگل آؤل (الو) بھی میٹھے پانی کے نظام سکڑنے کی صورت میں مسکن کی تباہی اور آبادی میں کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ممتاز ملک نے کہا کہ پانی پورے فوڈ چین کو برقرار رکھتا ہے۔ ایک سطح پر فاقہ کشی پورے ماحولیاتی نظام میں پھیل جاتی ہے اور یہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف کارروائی کا صحیح وقت ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ پہاڑی شکاریوں جیسے برفانی چیتے سے لے کر باغات اور فصلوں کو سہارا دینے والے پولینیٹرز تک کےلیے ماحولیاتی عدم توازن جنگلات کی حدود سے بہت آگے تک پھیل سکتا ہے جو بالآخر ان قدرتی نظاموں پر منحصر لاکھوں لوگوں کو متاثر کرے گا۔

آزاد کشمیر اور پنجاب میں دریا کے کناروں پر رہنے والے دیہاتیوں کے لیے سندھ طاس معاہدے کا مسئلہ انتہائی ذاتی ہے۔ پانی محض معاہدے کی ایک شق نہیں ہے۔ یہ گندم کے کھیتوں کے لیے آبپاشی، مویشیوں اور جنگلی حیات کےلیے پینے کا پانی اور جنگلات کےلیے زندگی ہے۔تحفظِ ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی استحکام کو سیاسی تنازعات سے بالاتر ہونا چاہیے۔جیسے ہی دریا ہمالیہ سے میدانی علاقوں کی طرف بہتے ہیں، وہ صرف پانی نہیں لاتے بلکہ اپنے ساتھ جنگلی حیات کی بقا، روزگار اور آنے والی نسلوں کا مستقبل لاتے ہیں۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر یہ پانی کم ہوا تو پہاڑوں اور جنگلات کی خاموشی کسی کے بھی تصور سے زیادہ گہری ہو جائے گی اور انسانی آبادیاں بری طرح متاثر ہوں گی۔

مزید خبریں