پشاور۔ 06 مارچ (اے پی پی):صبح طلوع آفتاب کے وقت جب پہلی کرن ڈیرہ اسماعیل خان کے وسیع و عریض کھیتوں پر پھیلتی ہے تو محمد عدنان جیسے کسان اپنے کھیتوں کی طرف نکلتے ہیں اور اپنی گندم کی فصل کے درمیان اس خاموش امید کے ساتھ چلتے ہیں کہ اس سال بمپر پیداوار حاصل ہوگی لیکن گندم کے اس سیزن میں وہ امید غیر یقینی صورتحال اور خوف کے …
بھارت کی سندھ طاس معاہدے کو جیو پولیٹیکل ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مذموم کوشش، خشک سالی اور بھوک پیدا کرنے کا گھناؤنا منصوبہ

مزید خبریں
پشاور۔ 06 مارچ (اے پی پی):صبح طلوع آفتاب کے وقت جب پہلی کرن ڈیرہ اسماعیل خان کے وسیع و عریض کھیتوں پر پھیلتی ہے تو محمد عدنان جیسے کسان اپنے کھیتوں کی طرف نکلتے ہیں اور اپنی گندم کی فصل کے درمیان اس خاموش امید کے ساتھ چلتے ہیں کہ اس سال بمپر پیداوار حاصل ہوگی لیکن گندم کے اس سیزن میں وہ امید غیر یقینی صورتحال اور خوف کے بڑھتے ہوئے سائے تلے دبی ہوئی ہے کہ ان کی قیمتی زرعی زمین کو سیراب کرنے والا پانی شاید ہمیشہ وہاں موجود نہ رہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے غیر قانونی فیصلے نے خیبر پختونخوا کے زرعی ماہرین اور کاشتکار برادریوں میں شدید تحفظات پیدا کر دیے ہیں، جنہوں نے خبردار کیا ہے کہ پانی کو ہتھیار بنانا لاکھوں لوگوں کو بھوک اور فاقہ کشی کی طرف دھکیل کر پاکستان میں انسانی اور اقتصادی بحران پیدا کر سکتا ہے۔
آبپاشی کےلیے کدال سے نالہ توڑتے ہوئے 42 سالہ گریجویٹ کسان عدنان نے قومی خبر رساں ادارے ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی خان خیبر پختونخوا کا پانی کی کمی کا شکار ضلع ہے اور بھارت کی جانب سے مغربی دریاؤں پر بگلیار جیسے غیر قانونی ڈیموں کی تعمیر پاکستان میں بھوک اور فاقہ کشی کا راج پیدا کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی دریا ہماری لائف لائن ہیں، بھارت نے گزشتہ سال اپریل میں ہماری زمین کو بنجر بنانے کے لیے گہری سازش کی ہے۔ ایک ایسے ملک کے لیے جہاں زراعت دریاؤں کی روانی سے گہرا تعلق رکھتی ہے، پاکستان میں کسانوں اور گندم کے کاشتکاروں کے لیے اس سے اہم کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کی زراعت اور خوراک کا تحفظ بڑی حد تک انڈس بیسن (سندھ طاس) آبپاشی کے نظام پر منحصر ہے جو دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی نیٹ ورکس میں سے ایک ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی بار بار خلاف ورزیاں یا رکاوٹیں ہزاروں فارمز، باغات، مچھلی فارموں اور دیہی کمیونٹیز، بالخصوص پنجاب اور آزاد کشمیر میں زندگی کی لکیر کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ زرعی ماہرینِ اقتصادیات اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت کا یہ اقدام پاکستان کی خوراک کی پیداوار کو غیر مستحکم کر سکتا ہے اور موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی کمی سے پہلے سے نبرد آزما خطے میں عدم تحفظ کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ معاشیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ذلاکت ملک نے معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بین الاقوامی وعدوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی زراعت اپنی پانی کی فراہمی کے 80 فیصد سے زیادہ کےلیے انڈس بیسن آبپاشی کے نظام پر انحصار کرتی ہے۔ مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں رکاوٹ یا اس میں خلل ڈالنے کی کوئی بھی کوشش شدید غذائی عدم تحفظ اور معاشی زوال کا سبب بن سکتی ہے۔
عالمی بینک کی ثالثی میں 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو طویل عرصے سے دنیا کے کامیاب ترین پانی کی تقسیم کے معاہدوں میں سے ایک سمجھا جاتا رہا ہے۔ معاہدے کے تحت پاکستان کے مغربی دریاؤں میں بہاؤ کی کمی گندم، چاول اور کپاس سمیت اہم فصلوں کی پیداوار پر براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔پاکستان کا بریڈ باسکٹ کہلانے والا پنجاب عام طور پر سالانہ 20 ملین میٹرک ٹن سے زیادہ گندم پیدا کرتا ہے جو ملک کی کل پیداوار کا تقریباً 80 فیصد ہے۔
سیزن 25-2024 کے لیے اس صوبے نے 16 ملین ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین سے تخمینے کے مطابق 22.05 ملین میٹرک ٹن گندم پیدا کی۔ ڈاکٹر ذلاکت ملک نے خبردار کیا کہ دریاؤں کے بہاؤ میں مسلسل کمی اس پیداوار کو برباد کر سکتی ہے۔ اگر بوائی یا بڑھوتری کے سیزن کے دوران پانی کی فراہمی میں اتار چڑھاؤ آتا ہے تو اہم فصلیں انتہائی کمزور ہو جاتی ہیں، یہاں تک کہ قلیل مدتی رکاوٹیں بھی پیداوار کو کم کر سکتی ہیں اور زرعی برآمدات کو کمزور کر سکتی ہیں۔ چونکہ پاکستان کی تقریباً 80 فیصد زرعی زمین اور 90 فیصد آبپاشی کا نظام انڈس بیسن پر منحصر ہے تو ایسے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ خطرات زراعت سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ زراعت پاکستان کی جی ڈی پی میں تقریباً 23 فیصد حصہ ڈالتی ہے اور ملک کی تقریباً 38 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے لہذا پانی کی نمایاں کمی برآمدات میں کمی، خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور دیہی غربت کو بڑھا کر پوری معیشت کو متاثر کرے گی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
جنوبی پنجاب اور سندھ پہلے ہی بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، بے ترتیب بارشوں اور بتدریج صحرائی عمل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ذلاکت ملک نے کہا کہ اگر دریاؤں کے بہاؤ میں کمی آتی ہے تو کسان زیر زمین پانی پر تیزی سے انحصار کریں گے۔ اس سے زیر زمین پانی کے ذخائر (ایکیو فر) کے ختم ہونے کی رفتار تیز ہو سکتی ہے اور مٹی کی نمکیات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو بالآخر زرخیز زمین کو بنجر بنا دے گا۔ سابق چیئرمین شعبہ بین الاقوامی تعلقات یونیورسٹی آف پشاور اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر عدنان سرور خان کےلیے اس کے نتائج معاشیات سے بالاتر ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانی کو ہتھیار بنانا بنیادی طور پر لاکھوں لوگوں کو بھوک اور فاقہ کشی کی طرف دھکیلنے کی ایک کوشش ہے۔سندھ طاس 245 ملین سے زیادہ لوگوں کی معیشت کا سہارا ہے اور پاکستان کی زرعی پانی کی ضروریات کا 80 فیصد سے زیادہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ غذائی قلت اور صحت کے خطرات کو مزید خراب کر سکتی ہے۔
انہوں نے معاہدے کی معطلی کو انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر پانی کی دستیابی کم ہوتی ہے تو بچوں میں نشوونما رکنے (سٹنٹنگ) اور دودھ پلانے والی ماؤں میں غذائی قلت کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ معاہدہ قانونی طور پر پابندی کا حامل ہے اور اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک ایسا موقف ہے جسے ثالثی کی مستقل عدالت (پی سی اے) نے بھی تسلیم کیا ہے۔ بھارت کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کو بیک وقت اپنی آبی سلامتی کو بھی مضبوط بنانا چاہیے۔ مہمند ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، اور دیامر بھاشا ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کی تکمیل کے بعد لاکھوں ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ اور ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔ ڈاکٹر ذلاکت ملک نے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کےلیے شمالی پاکستان میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے ڈیموں کے لیے کم سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ بہت تیزی سے مکمل ہو سکتے ہیں۔
یہ پاکستان کی آبی سلامتی کو مضبوط بنانے کا ایک عملی طریقہ ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی برادری کو سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے انسانی نتائج کو پہچاننا چاہیے اور بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ اپنے اقدام کو واپس لے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پانی کی تقسیم کے معاہدوں کی یکطرفہ معطلی قابل قبول ہو گئی تو یہ دنیا بھر کے دیگر ممالک کےلیے ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر عدنان سرور نے کے مطابق دنیا کو تجارتی مفادات سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہیے۔ پانی لاکھوں لوگوں کےلیے لائف لائن ہے اور اسے کبھی بھی جبر کا آلہ نہیں بننا چاہیے۔عدنان جیسے کسانوں کےلیے مسئلہ بہت سادہ ہے۔ اپنے کھیتوں میں کھڑے ہو کر وہ اس نہر کی طرف دیکھتے ہیں جو ان کی فصلوں کو سیراب کرتی ہے اور خاموشی سے کہتے ہیں کہ پانی ہمارے لیے زندگی ہے، اس کے بغیر سب کچھ ختم ہے۔








