عیدالفطر کی آمد کے پیش نظر شہر بھر میں عید خریداری اور کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آ گئی ہے اور تنخواہ دار طبقہ نے تنخواہ ملتے ہی بازاروں، شاپنگ پلازوں اور تجارتی مراکز کا رخ کر لیا ہے۔ شہر کے بڑے بازاروں، مارکیٹوں اور شاپنگ سینٹرز میں خریداروں کا رش بڑھ گیا ہے جبکہ افطاری کے بعد مختلف مارکیٹوں میں غیر معمولی گہما گہمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ …
عیدالفطر کی آمد کے پیش نظر کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں تیزی،تنخواہ دار طبقہ نے تنخواہ ملتے ہی بازاروں، شاپنگ مالزاور تجارتی مراکز کا رخ کر لیا

مزید خبریں
راولپنڈی۔6مارچ (اے پی پی):عیدالفطر کی آمد کے پیش نظر شہر بھر میں عید خریداری اور کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آ گئی ہے اور تنخواہ دار طبقہ نے تنخواہ ملتے ہی بازاروں، شاپنگ پلازوں اور تجارتی مراکز کا رخ کر لیا ہے۔ شہر کے بڑے بازاروں، مارکیٹوں اور شاپنگ سینٹرز میں خریداروں کا رش بڑھ گیا ہے جبکہ افطاری کے بعد مختلف مارکیٹوں میں غیر معمولی گہما گہمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ شہری بڑی تعداد میں کپڑوں، جوتوں، چوڑیوں اور دیگر عید سے متعلق اشیاء کی خریداری میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ خریداری کے لیے آنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے باوجود بچوں کی خوشی کے لیے عید کی خریداری کرنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گھریلو اخراجات میں اضافہ ہونے کے باوجود والدین بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ عید کے موقع پر بچوں کی خواہشات پوری کی جائیں تاکہ وہ اس خوشی کے موقع پر محرومی محسوس نہ کریں۔ دوسری جانب عید کی آمد کے ساتھ ہی درزیوں کے ہاں بھی رش بڑھ گیا ہے اور مرد و خواتین کے کپڑوں کی سلائی کے لئے درزیوں نے اجرت بھی بڑھا دی ہے اور بکنگ بند کے نام پر دگنی اجرت پر سلائی کا نام لے کر شہریوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے ۔
سلے ملبوسات کے بھی من مانے ریٹ طلب کئے جا رہے ہیں ۔ بازاروں میں خواتین اور بچیوں کے لیے چوڑیوں اور مہندی کے خصوصی اسٹالز بھی سج گئے ہیں جہاں رنگ برنگی چوڑیاں خریداروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ خواتین کا کہنا ہے کہ مہندی اور چوڑیوں کے بغیر عید کی خوشیاں ادھوری محسوس ہوتی ہیں، اسی لیے وہ عید کی تیاریوں میں ان اشیاء کی خریداری کو خصوصی اہمیت دیتی ہیں۔ تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ عید قریب آتے ہی کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے تاہم خریداروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظام، پولیس اور ٹریفک انتظامیہ بھی متحرک ہے ۔
پیشہ ور بھکاری بھی بازاروں میں متحرک ہو گئے ہیں ۔ تاجر رہنماؤں کے مطابق افطاری کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد خریداری کے لیے بازاروں کا رخ کرتی ہے جس کے باعث مارکیٹوں میں رش بڑھ جاتا ہے۔ ادھر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کی سہولت کے لیے گراں فروشوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جبکہ سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے مختلف تجارتی مراکز میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے سٹی ٹریفک پولیس کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ خریداروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔







