صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان کے نجی شعبے کو اقتصادی پالیسی سازی اور برآمدی حکمت عملی کے مرکز میں لانا ہوگا، کیونکہ کاروباری برادری اور کاروباری افراد کی صلاحیتوں کو بھرپور طور پر بروئے کار لائے بغیر پائیدار اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع اور زرمبادلہ کے مستقل حصول کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔
نجی شعبہ ملکی اقتصادی ترقی کا حقیقی انجن ہے، اسے اقتصادی پالیسیوں کی تشکیل میں موثر اور فیصلہ کن کردار دیا جانا چاہیے، سردار طاہر محمود

مزید خبریں
اسلام آباد۔21اگست (اے پی پی):صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان کے نجی شعبے کو اقتصادی پالیسی سازی اور برآمدی حکمت عملی کے مرکز میں لانا ہوگا، کیونکہ کاروباری برادری اور کاروباری افراد کی صلاحیتوں کو بھرپور طور پر بروئے کار لائے بغیر پائیدار اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع اور زرمبادلہ کے مستقل حصول کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز چیمبر ہائوس میں آنے والے کاروباری رہنمائوں کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ نجی شعبہ ملکی اقتصادی ترقی کا حقیقی انجن ہے، اس لیے اسے اقتصادی پالیسیوں کی تشکیل میں موثر اور فیصلہ کن کردار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان بامعنی اور ادارہ جاتی شراکت داری کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے مختلف شعبوں کے مخصوص مسائل کی نشاندہی، کاروباری رکاوٹوں کا خاتمہ اور ایسی عملی پالیسیاں تشکیل دی جا سکتی ہیں جو عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنائیں۔
صدر آئی سی سی آئی نے حکومت پر زور دیا کہ کاروبار کرنے میں آسانی بہتر بنانے، پیداواری لاگت کم کرنے، مسابقتی نرخوں پر قابل اعتماد توانائی کی فراہمی یقینی بنانے اور ٹیکس و ریگولیٹری نظام کو آسان بنانے کے لیے فوری اصلاحات کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کو ایک ایسے مستحکم اور کاروبار دوست ماحول کی ضرورت ہے جہاں وہ طویل المدتی سرمایہ کاری کر سکیں اور عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی کو وسعت دے سکیں۔انہوں نے ویلیو ایڈڈ برآمدات کے فروغ، صنعتی توسیع اور نئی و ابھرتی ہوئی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے خصوصی اور ہدفی مراعات دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو روایتی برآمدات تک محدود رہنے کے بجائے اعلیٰ قدر کی حامل مصنوعات، ٹیکنالوجی، آئی ٹی سے متعلق خدمات اور علم پر مبنی صنعتوں کی طرف تیزی سے پیش رفت کرنا ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری حکومت اور تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کاروبار دوست اصلاحات کے فروغ، برآمدی شعبے کو مضبوط بنانے اور پاکستان کی اقتصادی صلاحیت کو حقیقی معاشی قوت میں تبدیل کرنے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔








