آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے قبل بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان بڑے مقابلے کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی

کولمبو ۔7مارچ (اے پی پی):آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے قبل بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان بڑے مقابلے کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ دونوں ٹیمیں اتوار کو احمد آباد میں ٹائٹل کے لیے آمنے سامنے ہوں گی اور شائقین کرکٹ کو ایک سنسنی خیز مقابلے کی توقع ہے۔بھارت نے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف سنسنی خیز میچ جیت کر فائنل …

کولمبو ۔7مارچ (اے پی پی):آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے قبل بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان بڑے مقابلے کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ دونوں ٹیمیں اتوار کو احمد آباد میں ٹائٹل کے لیے آمنے سامنے ہوں گی اور شائقین کرکٹ کو ایک سنسنی خیز مقابلے کی توقع ہے۔بھارت نے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف سنسنی خیز میچ جیت کر فائنل میں جگہ بنائی۔ اس میچ میں بھارتی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 7 وکٹوں کے نقصان پر 253 رنز کا بڑا مجموعہ اسکور کیا۔

تاہم ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کے بلے بازوں نے سخت مقابلہ کیا اور ٹیم صرف سات رنز سے کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی۔دوسری جانب نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کو یکطرفہ مقابلے کے بعد نو وکٹوں سے شکست دی۔ کیوی ٹیم نے 170 رنز کا ہدف صرف 12.5 اوورز میں حاصل کرکے اپنی شاندار فارم کا مظاہرہ کیا اور اعتماد کے ساتھ فائنل میں رسائی حاصل کی۔

ادھر سابق بھارتی اسپنر پیوش چاولہ نے ٹیم کے مِسٹری اسپنر ورون چکرورتھی کی بولنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ میچز میں وہ بہت زیادہ فل لینتھ یا بہت شارٹ گیندیں کروا رہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق ورون چکرورتھی کی اصل طاقت سخت لینتھ پر گیند کروانا ہے، جہاں گیند گھٹنے کی اونچائی تک باؤنس ہوتی ہے اور بلے باز کے لیے اسے کھیلنا مشکل ہو جاتا ہے۔

چاولہ نے مزید کہا کہ اگر بلے باز گیند کو ہاتھ سے صحیح طرح نہ دیکھ سکے تو ورون چکرورتھی کی رفتار اور باؤنس اسے مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ تاہم حالیہ دو میچز میں وہ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئے جہاں انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 1 وکٹ کے عوض 40 رنز اور انگلینڈ کے خلاف 1 وکٹ کے عوض 64 رنز دیے۔

ماہرین کے مطابق یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ فائنل میں بھارت ورون چکرورتھی کو ٹیم میں برقرار رکھتا ہے یا ان کی جگہ بائیں ہاتھ کے اسپنر کلدیپ یادیو کو موقع دیا جاتا ہے۔ دونوں ٹیمیں ٹائٹل جیتنے کے لیے پرعزم ہیں جہاں بھارت تیسری مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے کی کوشش کرے گا جبکہ نیوزی لینڈ اپنی تاریخ کا پہلا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ٹائٹل حاصل کرنے کے لیے میدان میں اترے گا۔