اسلام آباد۔ 07 مارچ (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ویڈلاک پالیسی کے تحت تبادلے سے متعلق فیڈرل سروس ٹربیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا ۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔سپریم کورٹ میں جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری …
ویڈلاک پالیسی پر فیڈرل سروس ٹربیونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج، فریقین کو نوٹس جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 07 مارچ (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ویڈلاک پالیسی کے تحت تبادلے سے متعلق فیڈرل سروس ٹربیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا ۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔سپریم کورٹ میں جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
عدالت نے سماعت کے دوران اہم قانونی سوال اٹھایا کہ آیا ویڈلاک پالیسی کسی سرکاری ملازم کو مستقل طور پر ایک ہی سٹیشن پر تعینات رہنے کا حق فراہم کرتی ہے یا نہیں۔ایف بی آر کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر پیش ہوئے۔
انہوں نے موقف اختیار کیا کہ فیڈرل سروس ٹربیونل کا فیصلہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے قانونی فریم ورک کے منافی ہے۔وکیل ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ سول سرونٹس ایکٹ کے سیکشن 10 کے تحت حکومت کو سرکاری ملازمین کی تعیناتیوں اور تبادلوں کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی سول سرونٹ کسی مخصوص شہر یا سٹیشن پر تعیناتی کا مستقل حق نہیں رکھتا کیونکہ سرکاری ملازم ریاست کی خدمت کے لیے ہوتا ہے، کسی خاص مقام کے لیے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کوڈ (ایسٹاکوڈ) کے تحت وفاقی ملازمین کو انتظامی ضروریات کے مطابق پاکستان کے کسی بھی حصے میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے موقف اختیار کیا کہ انتظامی کارکردگی، شفافیت اور ادارہ جاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے افسران کے تبادلے اور تعیناتیوں میں گردش (روٹیشن) ضروری ہوتی ہے، اس لیے طویل عرصے تک ایک ہی سٹیشن پر تعیناتی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ویڈلاک پالیسی دراصل ایک انتظامی ہدایت ہے جس کا مقصد جہاں ممکن ہو میاں بیوی کو ایک ہی سٹیشن پر تعینات کرنے کی کوشش کرنا ہے، تاہم یہ کوئی لازمی قانونی پابندی نہیں۔وکیل کے مطابق متعلقہ افسر 2006 سے مسلسل 12 سال سے زائد عرصے تک پشاور میں تعینات رہا، جو انتظامی اصولوں اور ایسٹاکوڈ میں موجود تبادلوں کے نظام کے برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ افسر کی جانب سے نہ کوئی طبی بنیاد پیش کی گئی اور نہ ہی کوئی غیر معمولی سختی ثابت کی گئی جو اسی سٹیشن پر مسلسل تعیناتی کا جواز بن سکے۔ابتدائی دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا اور کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔







