لاہور۔7مارچ (اے پی پی):وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ اور خلیج میں کشیدگی کے نتیجے میں عالمی معاشی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے سادگی و بچت کیلئے لائحہ عمل تشکیل دینے اور حکومتی کمیٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر اس حوالے سے قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ہفتہ کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت حالیہ عالمی تناظر میں ملکی معاشی صورتحال …
وزیر اعظم کی زیر صدارت حالیہ عالمی تناظر میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ، معاشی ترقی، سادگی اور بچت کیلئے لائحہ عمل تشکیل دینے اور48گھنٹوں میں قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
لاہور۔7مارچ (اے پی پی):وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ اور خلیج میں کشیدگی کے نتیجے میں عالمی معاشی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے سادگی و بچت کیلئے لائحہ عمل تشکیل دینے اور حکومتی کمیٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر اس حوالے سے قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ہفتہ کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت حالیہ عالمی تناظر میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا جس میں عالمی سطح پر حالیہ کشیدگی کے خطے پر پڑنے والے معاشی اثرات پر بریفنگ دی گئی۔
وزیرِ اعظم نے صورت حال کے پیش نظر معاشی ترقی، سادگی اور بچت کیلئے لائحہ عمل تشکیل دینے اور اس سلسلے میں کمیٹی کو آئندہ 48 گھنٹوں میں قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لائحہ عمل وضع کیا جائے جس میں عوام پر بوجھ کم سے کم ہو ، عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دی جائے ۔
اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر گزشتہ ہفتے ہی حالیہ کشیدگی کے عالمی و ملکی سطح پر معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی تھی جو اس حوالے سے لائحہ عمل پر کام کر رہی تھی، جس کی وجہ سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کمی پیدا نہیں ہوئی۔
بریفنگ کے مطابق گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کمیٹی کی تجویز پر ہوا، جس میں عالمی سطح پر اضافے کا کم سے کم بوجھ صارفین پر منتقل کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو مزید فعال و متحرک ہوکر کام کرنے اور جلد از جلد عوام کے لیے سہل اور قابل عمل سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے حکم دیا کہ جو بھی پٹرول پمپ یا کمپنی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی گئی ہو، اسکو فوراً بند کیا جائے اور اس کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔
وزیراعظم نے وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور ان کی عوام کو بلاتعطل فراہمی کے حوالے سے لائحہ عمل و منصوبہ بنائیں۔







