بیجنگ۔8مارچ (اے پی پی):چین کے قومی سیاسی مشیر وانگ جیان آن نے کہا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) صحت کے شعبے میں تیزی سے استعمال ہو رہی ہے، ویسے ویسے اس کے لیے سخت حفاظتی اقدامات، ڈیٹا میں زیادہ شفافیت اور خصوصی مہارت رکھنے والے ماہرین کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے ۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میڈیکل اے آئی کے میدان …
میڈیکل اے آئی کے لیے سخت حفاظتی اقدامات اور عالمی تعاون ناگزیر ہے، چینی مشیر

مزید خبریں
بیجنگ۔8مارچ (اے پی پی):چین کے قومی سیاسی مشیر وانگ جیان آن نے کہا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) صحت کے شعبے میں تیزی سے استعمال ہو رہی ہے، ویسے ویسے اس کے لیے سخت حفاظتی اقدامات، ڈیٹا میں زیادہ شفافیت اور خصوصی مہارت رکھنے والے ماہرین کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے ۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میڈیکل اے آئی کے میدان میں امریکا سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بین الاقوامی تعاون بدستور اہمیت کا حامل ہے۔چین کے سالانہ “ٹو سیشنز” اجلاسوں کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چائنیز پیپلز پولیٹیکل کنسلٹیٹو کانفرنس کی قومی کمیٹی کے رکن اور ژی جیانگ یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے سیکنڈ افیلی ایٹڈ ہسپتال کے صدر وانگ جیان آن نے کہا کہ اس سال ان کی تجاویز دو اہم شعبوں پر مرکوز ہیں۔ ان میں برین کمپیوٹر انٹرفیس ٹیکنالوجی کو تحقیق کے مرحلے سے نکال کر ہسپتالوں میں عملی استعمال تک پہنچانا اور صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اور حفاظتی خطرات سے نمٹنا شامل ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کلینیکل استعمال میں میڈیکل اے آئی کو درپیش سب سے بڑی رکاوٹیں کیا ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایک بڑی تشویش ڈیٹا کے معیار اور اس کی حفاظت سے متعلق ہے جبکہ دیگر مسائل میں ماڈلز کی محدود شفافیت اور نظام کے نفاذ کے بعد مؤثر نگرانی کا فقدان بھی شامل ہے۔بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ میڈیکل اے آئی کے میدان میں ایک دوسرے کے حریف بھی ہیں اور شراکت دار بھی تاہم ان کے مطابق تعاون مسابقت پر غالب آ سکتا ہے۔وانگ جیان آن نے کہا کہ مختلف ممالک کی اپنی اپنی طاقتیں ہیں، بعض مغربی ممالک کو چپس اور مواد کی ٹیکنالوجی میں برتری حاصل ہے جبکہ چین نے بعض اوپن سورس شعبوں میں تیزی سے پیش رفت کی ہے اور بیماریوں کے تنوع اور کلینیکل اطلاق کے منظرناموں میں بھی اسے نمایاں برتری حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیماریوں کی اسکریننگ، میڈیکل امیجنگ میں معاونت اور دائمی امراض کے انتظام جیسے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کے ذریعے مختلف آبادیوں کے علم، ڈیٹا اور حیاتیاتی معلومات کو یکجا کیا جا سکتا ہے، جس سے محققین کو سائنسی سوالات کے جامع جواب تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔چین کی عالمی حریفوں کے مقابلے میں برتری کے بارے میں سوال پر انہوں نے پالیسی کی حمایت، عوام میں اے آئی کے وسیع استعمال، کلینیکل ایپلی کیشنز میں بڑھتے تجربے اور طب و انجینئرنگ کے درمیان مضبوط انضمام کو اہم عوامل قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین میں مریضوں کی بڑی تعداد اور بیماریوں کی وسیع اقسام ہسپتالوں کو تحقیق اور ترقی کے لیے وسیع کلینیکل ڈیٹا فراہم کرتی ہیں۔وانگ جیان آن نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں چینی میڈیکل اے آئی حل کا بڑھتا ہوا استعمال چین کی تکنیکی ترقی کی عکاسی کرتا ہے اور اس طرح کے تعاون سے ترقی پذیر ممالک کو ایسی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ملتی ہے جو بصورت دیگر ان کے لیے حاصل کرنا مشکل ہوتی ہے۔








