لاہور۔8مارچ (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی ریجنل کمیٹی برائے فوڈ کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات اور امریکا، اسرائیل ر ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان میں غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے زرعی شعبے میں ڈیجیٹل فارمنگ انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے یہ بات اتوار کو یہاں چوہدری محمد آصف ارائیں کی …
موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان میں غذائی تحفظ کیلئے ڈیجیٹل فارمنگ ناگزیر ہے،شاہد عمران
لاہور۔8مارچ (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی ریجنل کمیٹی برائے فوڈ کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات اور امریکا، اسرائیل ر ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان میں غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے زرعی شعبے میں ڈیجیٹل فارمنگ انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے یہ بات اتوار کو یہاں چوہدری محمد آصف ارائیں کی قیادت میں ساہیوال کے ترقی پسند کسانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
شاہد عمران نے کہا کہ دنیا بھر میں زرعی معیشتیں تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہیں جبکہ ترقی پذیر معیشتوں کے لیے پرانے طریقہ کاشت کے ساتھ مقابلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی ایسے ممالک میں شامل ہے جہاں زراعت مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریبا 24 فیصد حصہ ڈالتی اور 37.4 فیصد افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود زیادہ تر کسان جدید زرعی تکنیکوں سے ناواقف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل فارمنگ زرعی ترقی کو دوبارہ متحرک کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ ملک اپنی قابلِ کاشت زمین اور آبی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسان پریسیژن ایگریکلچر، فارم ڈیٹا کی ڈیجیٹلائزیشن اور زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کو اپنائیں تو کم لاگت کے ساتھ زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن اور چھوٹے کاشتکاروں پر مالی دبائو بھی کم ہو سکتا ہے۔
شاہد عمران کا کہنا تھا کہ پاکستان جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، میں صرف پالیسیوں میں سادہ سی تبدیلی کے ذریعے نہ صرف ملکی غذائی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں بلکہ زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات بڑھا کر قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، جس سے مجموعی معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔









