اسلام آباد۔8مارچ (اے پی پی):وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری شعبے (ایس ایم ایز) کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کے دوران سمیڈا کے بورڈ ممبر مشہود علی خان نے شرکاء کو ایس ایم ایز کی معاونت اور قومی معیشت میں ان کے کردار کو …
معاون خصوصی ہارون اختر خان کی زیرصدارت ایس ایم ایز کو مضبوط بنانے کے اقدامات بارے جائزہ اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔8مارچ (اے پی پی):وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری شعبے (ایس ایم ایز) کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کے دوران سمیڈا کے بورڈ ممبر مشہود علی خان نے شرکاء کو ایس ایم ایز کی معاونت اور قومی معیشت میں ان کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کیے جانے والے نئے اقدامات پر بریفنگ دی۔
ہارون اختر خان نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ 200 سے زائد ایس ایم ای کلسٹرز کی رجسٹریشن پر مشتمل ایک آن لائن پلیٹ فارم قائم کیا جا چکا ہے جس کے ذریعے مختلف کاروباری کلسٹرز کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لایا گیا ہے،اس پلیٹ فارم پر شہد کے پیداواری یونٹس سے لے کر زیتون کے تیل کے پراسیسرز تک مختلف کلسٹرز ایک ہی ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق کلسٹرز کی رجسٹریشن سے ایس ایم ایز کو قومی اور بین الاقوامی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔
معاونِ خصوصی نے مزید بتایا کہ سمیڈا ان کلسٹرز کو ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ اور برآمدات کے فروغ کے حوالے سے تربیت فراہم کرے گا تاکہ وہ عالمی منڈیوں میں مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔ہارون اختر خان نے اس بات پر زور دیا کہ ایس ایم ای سیکٹر پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای کلسٹرز کی ڈیجیٹلائزیشن سے کاروباری مواقع میں نمایاں اضافہ ہوگا، کاروباری اداروں کے درمیان روابط بہتر ہوں گے اور مارکیٹ میں ان کی موجودگی مزید مستحکم ہوگی۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے اور کلسٹر بیسڈ اپروچ کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، جس سے مقامی صنعت کو مضبوط بنانے اور پاکستان کی برآمدی صلاحیت میں اضافے میں مدد ملے گی۔








