خطے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے قیام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی سب سے مؤثر ذرائع ہیں۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد۔8مارچ (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے قیام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی سب سے مؤثر ذرائع ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز صاحبه غفاروو، اسپیکر ملی مجلس آذربائیجان سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کیا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال …

اسلام آباد۔8مارچ (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے قیام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی سب سے مؤثر ذرائع ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز صاحبه غفاروو، اسپیکر ملی مجلس آذربائیجان سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کیا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔گفتگو کے دوران چیئرمین سینیٹ نے حالیہ ڈرون حملوں کے تناظر میں آذربائیجان کی حکومت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے حملے بین الاقوامی قوانین اور خودمختار ریاستوں کے درمیان تعلقات کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اور اس طرح کے اقدامات خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان آذربائیجان کو درپیش سکیورٹی خدشات کو بخوبی سمجھتا ہے اور آذربائیجان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے 6 مارچ کو وزیر اعظم پاکستان اور الہام علیئیف، صدر آذربائیجان کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو اور 5 مارچ کو پاکستان کے نائب وزیر اعظم/وزیر خارجہ اور آذربائیجان کے وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والے رابطے کا بھی ذکر کیا، جس میں پاکستان نے آذربائیجان کے ساتھ بھرپور یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا تھا۔چیئرمین سینیٹ نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان قریبی اور دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں آذربائیجان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی میں کمی اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری نہایت اہم ہیں اور تمام فریقین کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے آذربائیجان کی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا جس نے ایران سے پاکستانی شہریوں کے انخلا میں بھرپور تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 113 پاکستانی شہریوں کو آستارا بارڈر کراسنگ کے ذریعے بحفاظت نکالا گیا، جہاں آذربائیجان کے حکام نے آمد پر ویزا جاری کرنے سمیت ان کے آگے سفر کے لیے سہولت فراہم کی۔ اس موقع پر اسپیکر آذربائیجان پارلیمنٹ نے موجودہ صورتحال میں پاکستان کی جانب سے بھرپور حمایت اور یکجہتی کے اظہار پر چیئرمین سینیٹ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان کی مسلسل سفارتی اور سیاسی حمایت کو سراہا۔گفتگو کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مضبوط شراکت داری خطے اور عالمی سطح پر امن، استحکام اور تعاون کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرتی رہے گی۔