امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر بات چیت کے لیے تیار نہیں ،ایران

تہران۔9مارچ (اے پی پی):ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس وقت امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نےاین بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کے حوالے سے اپنے داخلی …

تہران۔9مارچ (اے پی پی):ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس وقت امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نےاین بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کے حوالے سے اپنے داخلی معاملات میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکانے پہلے ہی اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے جو گزشتہ سال 12 روزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کیا اب آپ دوبارہ جنگ بندی کا مطالبہ کرنا چاہتے ہیں؟ چیزیں اس طرح نہیں چلتیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ کا مستقل خاتمہ ہونا چاہیے۔ جب تک ہم اس مرحلے تک نہیں پہنچتے، میرا خیال ہے کہ ہمیں اپنے عوام اور اپنی سلامتی کے لیے لڑائی جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ ایران جان بوجھ کر اپنے پڑوسیوں پر حملہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکی اڈوں، تنصیبات اور مفادات پر حملہ کر رہے ہیں جو ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین پر واقع ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر امریکا نے ایران میں زمینی افواج تعینات کیں تو ہمارے پاس سخت جان سپاہی موجود ہیں جو اپنی سرزمین میں داخل ہونے والے کسی بھی دشمن کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ وہ ان سے لڑیں اور انہیں ختم کر دیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ہفتے دیئے گئے بیانات کی تردید کی جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ جنگ شروع کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایران جلد ہی ایسے میزائل حاصل کر لے گا جو امریکا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ سچ نہیں ہے۔ یہ دراصل گمراہ کن معلومات ہیں ،جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہمارے پاس میزائل بنانے کی صلاحیت ہے لیکن ہم نے جان بوجھ کر خود کو 2000 کلومیٹر سے کم رینج تک محدود رکھا ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ دنیا کی کسی بھی دوسری قوت کی جانب سے ہمیں خطرے کے طور پر دیکھا جائے۔

مزید خبریں