سعودی عرب کی تاریخی مساجد کی بحالی، تبوک ریجن میں جامع مسجد ضبا کی تعمیرِ نومکمل

ریاض ۔13مارچ (اے پی پی):سعودی عرب نے تاریخی مساجد اور ان کے تعمیری لینڈ مارکس کے تحفظ کے لیےپرنس محمد بن سلمان پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے کے تحت تبوک ریجن کے علاقے ضباء کی جامع مسجد کی تعمیرِ نو و بحالی کا کام مکمل کرلیا ہے ۔ اردو نیوز کے مطابق مسجد کی پہلی تعمیر سالِ ہجری 1373 میں کی گئی تھی۔تاریخی حوالوں کے مطابق مسجد کی تاریخ کے بارے …

ریاض ۔13مارچ (اے پی پی):سعودی عرب نے تاریخی مساجد اور ان کے تعمیری لینڈ مارکس کے تحفظ کے لیےپرنس محمد بن سلمان پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے کے تحت تبوک ریجن کے علاقے ضباء کی جامع مسجد کی تعمیرِ نو و بحالی کا کام مکمل کرلیا ہے ۔ اردو نیوز کے مطابق مسجد کی پہلی تعمیر سالِ ہجری 1373 میں کی گئی تھی۔تاریخی حوالوں کے مطابق مسجد کی تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ساحلی علاقہ ہونے کی وجہ سے سمندری سفر سے منسلک افراد اپنے سفر سے لوٹنے کے بعد یہاں جمع ہوتے تھے۔

قبیلہ العرینی کے ایک شخص نے مسجد کی بنیاد ڈالی اور پتھروں سے اس کا احاطہ بنایا، بعد ازاں دوسری مرتبہ عبداللہ بن سلیم جو کہ السنوسی کے لقب سے مشہور تھے، نے اسے سالِ ہجری 1373 میں تعمیر کرایا۔مسجد کی تیسری تعمیر شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن کے خرچ پر کی گئی اور چوتھی توسیع و تعمیرِ نو کا کام شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دور میں مکمل ہوا،

اس وقت سے تاحال یہاں باقاعدہ پانچ وقت کی نمازیں ادا کی جاتی رہیں۔پرنس محمد بن سلمان پراجیکٹ کے تحت ضبا کی اس قدیم و تاریخی مسجد کی تعمیرِ نو کی گئی جس کے بعد اس کا مجموعی رقبہ 947.88 مربع میٹر سے بڑھ کر 972.23 مربع میٹر جبکہ نمازیوں کی گنجائش 750 سے بڑھ کر 779 تک ہوگئی۔مسجد کی تعمیر کے قدرتی مواد جیسے پتھر، گارے، بھوسے کو استعمال کیا گیا جو بحیرہ احمرر کے روایتی فن تعمیر کا خاصہ ہیں۔ کھڑکیوں اور دروازوں کے لیے علاقائی لکڑی کو استعمال کیا گیا ہے۔