خیبر پختونخوا کا مالٹا: بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ممکنہ شکار

پشاور۔ 15 مارچ (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں نے خیبر پختونخوا میں دیگر باغات کے ساتھ ساتھ مالٹے کےلیے بھی خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔۔خیبر پختونخوا اور پنجاب کے کچھ حصوں میں سٹرس کے باغات سب سے زیادہ منافع بخش موسمی فصلوں میں سے ایک بن کر ابھرے ہیں۔ کاشتکاروں کے مطابق ایک اچھی طرح سے سنبھالا ہوا ایکڑ خاطر خواہ آمدنی پیدا …

پشاور۔ 15 مارچ (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں نے خیبر پختونخوا میں دیگر باغات کے ساتھ ساتھ مالٹے کےلیے بھی خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔۔خیبر پختونخوا اور پنجاب کے کچھ حصوں میں سٹرس کے باغات سب سے زیادہ منافع بخش موسمی فصلوں میں سے ایک بن کر ابھرے ہیں۔ کاشتکاروں کے مطابق ایک اچھی طرح سے سنبھالا ہوا ایکڑ خاطر خواہ آمدنی پیدا کر سکتا ہے۔ کسان ساجد عباسی کا کہنا ہے کہ مناسب آبپاشی اور اچھے انتظام کے ساتھ ایک ایکڑ پر مشتمل باغ سینکڑوں کلوگرام پھل پیدا کر سکتا ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا، خاص طور پر پانی کی فراہمی، تو کسان فی ایکڑ 500,000 سے 700,000 روپے کے درمیان کما سکتے ہیں۔

لیکن سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں کاشتکاروں کےلیے تیزی سے پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔ساجد عباسی کو خدشہ ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں سے منسلک دریاؤں کے بہاؤ میں رکاوٹیں اس آبپاشی کے نظام کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں جو ان کے باغ کو زندہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بڑی حد تک دریائے سندھ کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر پانی نایاب ہو گیا تو ہمارے جیسے سٹرس کے باغات متاثر ہوں گے۔

پورے خطے کے کسانوں کو اسی طرح کے خدشات لاحق ہیں۔ ہری پور اور صوابی جیسے اضلاع کے باغات تربیلہ ڈیم کے ذریعے سندھ طاس نظام کی آبپاشی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ پانی کے بہاؤ میں کسی بھی کمی سے موسمی فصلیں بشمول گندم، چاول، گنا اور پھل جیسے خربوزے، اسٹرابیری اور سٹرس براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔پشاور یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا کہ پانی زراعت کی لائف لائن ہے۔ اگر دریاؤں کا بہاؤ کم ہوا تو ہری پور، صوابی، مردان، چارسدہ اور سوات جیسے اضلاع میں پھلوں کے باغات تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق ملک سالانہ 2.13 ملین سے 2.4 ملین میٹرک ٹن سٹرس پیدا کرتا ہے جو پاکستان کی کل پھلوں کی پیداوار کا تقریباً 30 سے 38 فیصد ہے۔ 90 فیصد سے زیادہ سٹرس پنجاب میں اگایا جاتا ہے جس میں سرگودھا کا علاقہ مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔ پاکستان کینو کا ایک بڑا عالمی فراہم کنندہ بھی ہے جو دنیا کی تقریباً 90 فیصد سپلائی پیدا کرتا ہے۔ ملک ہر سال تقریباً 440,000 ٹن سٹرس برآمد کرتا ہے جس سے تقریباً 166 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ پھر بھی کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور غیر معمولی بارشیں پہلے ہی پیداوار کو متاثر کر رہی ہیں۔

ضلع نوشہرہ میں کسان ساجد خان ایک دہائی سے زائد عرصے سے مانکی شریف میں اپنے دو ایکڑ کے باغ میں سٹرس کی کاشت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سال فصل مایوس کن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر ایک ایکڑ سے 700 سے 950 کلوگرام تک پیداوار حاصل ہوتی ہے لیکن غیر معمولی بارشوں اور بدلتے ہوئے موسمی حالات نے پیداوار اور ہماری روزانہ کی آمدنی کو کم کر دیا ہے۔ موسم کی شدت نے کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دریائے کابل اور سوات میں 2022 کے تباہ کن سیلاب نے کئی اضلاع میں پھلوں کے باغات کو نقصان پہنچایا، فصلوں کو تباہ کیا اور موسمی زراعت کی نازک نوعیت کو بھی ظاہر کیا۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ پانی کے بہاؤ میں مزید رکاوٹیں ان چیلنجوں کو مزید گہرا کر سکتی ہیں۔

محکمہ جنگلات کے سابق کنزرویٹر اور ماحولیاتی ماہر توحید الحق کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی بارشوں کے پیٹرن کو تبدیل کر رہی ہے اور شمالی پاکستان میں گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو تیز کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں موسمی فصلوں اور پھلوں کی پیداوار خاص طور پر سٹرس اور خربوزوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ اگر پانی کا بہاؤ ناقابل پیش گوئی ہو گیا تو خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں باغات کے ساتھ ساتھ گندم اور چاول جیسی فصلوں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان اپنی 80 فیصد سے زیادہ آبپاشی زراعت کےلیے سندھ طاس آبپاشی کے نظام پر انحصار کرتا ہے جس سے ملک کی غذائی تحفظ کے لیے پانی کا مستحکم بہاؤ ضروری ہو جاتا ہے۔ ماہرین معاشیات بھی خبردار کرتے ہیں کہ دریا کے بالائی حصوں سے پانی کا غیر منظم اخراج پاکستان کے آبپاشی کے انتظام میں خلل ڈال سکتا ہے۔ پروفیسر نعیم کے مطابق جب بہاؤ اچانک تبدیل ہوتا ہے، تو نہروں کا آپریشن اور ریزروائر (ذخائر) کا انتظام مشکل ہو جاتا ہے۔

آخر کار کسان کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔پانی کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو نئے ڈیموں اور ذخائر کی تعمیر میں تیزی لانی چاہیے۔بڑے منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم شامل ہے جس سے 4,500 میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے اور مہمند ڈیم بھی ہے جس کی صلاحیت تقریباً 800 میگاواٹ ہے۔دریائے سندھ، دریائے سوات، دریائے کابل اور کرم کے ساتھ ساتھ کئی اضافی ڈیم سائٹس کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اگرچہ چھوٹے ڈیم دو سے تین سالوں میں مکمل کیے جا سکتے ہیں، لیکن بڑے ذخائر کی تعمیر میں 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔

تخمینہ بتاتا ہے کہ پاکستان کو بڑھتی ہوئی زرعی اور گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک اضافی 76 ملین ایکڑ فٹ پانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کاشتکاروں کے یہ خدشات بجا ہیں کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں دیگر پھلوں کے باغات کے ساتھ ساتھ مالٹے کے باغات کےلیے بھی سنگین خطرات کے باعث ہیں۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کےلیے پاکستان کی سٹرس کی فصل کا مستقبل نہ صرف موسم اور مارکیٹوں پر بلکہ ان دریاؤں کی تقدیر پر بھی منحصر ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔

مزید خبریں