عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود ملک میں ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کیلئے قائم کمیٹی کوبریفنگ
عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود ملک میں ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کیلئے قائم کمیٹی کوبریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔18مارچ (اے پی پی):پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کے لئے قائم کمیٹی کو بتایا گیاہے کہ توانائی کی عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ اور علاقائی صورتحال کے باوجود ملک میں ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے اور وافر ذخائر موجود ہیں، ڈیزل کے موجودہ ذخائر تقریباً 24 دن کے لئے کافی ہیں، اجلاس کوبتایاگیا کہ قومی ذخائر کو مزید مضبوط بنانے کیلئے مارچ و اپریل کے لئے اضافی درآمدی انتظامات بھی کئے جا رہے ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس بدھ کویہاں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹرمحمداورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر توانائی کے شعبے میں ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، گورنرسٹیٹ بینک، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ عالمی توانائی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ اور علاقائی صورتحال کے باوجود ملک میں ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے اور وافر ذخائر موجود ہیں۔بریفنگ میں بتایاگیا کہ ڈیزل کے موجودہ ذخائر تقریباً 24 دن کے لئے کافی ہیں جبکہ پٹرول کے ذخائر بھی تسلی بخش سطح پر ہیں جنہیں جاری درآمدات اور ریفائنری آپریشنز کی بدولت برقرار رکھا جا رہا ہے۔پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ خام تیل کا ایک جہاز پہنچ چکا ہے اور اس کی ان لوڈنگ جاری ہے جبکہ ایک اور جہاز آئندہ چند گھنٹوں میں کراچی بندرگاہ پہنچنے والا ہے۔
مزید کھیپیں راستے میں ہیں اور مارچ و اپریل کے لئے اضافی درآمدی انتظامات بھی کئے جا رہے ہیں تاکہ قومی ذخائر کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئی کھیپوں کی پراسیسنگ سے ریفائنری پیداوار میں اضافہ متوقع ہے اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات جاری ہیں۔ کمیٹی کو بتایاگیا کہ عالمی پٹرولیم منڈیوں میں اس وقت غیر معمولی دباؤ ہے جہاں بینچ مارک قیمتوں اور کارگو پریمیم دونوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اراکین نے نوٹ کیا کہ یہ صورتحال خطے میں غیر یقینی حالات کے باعث سپلائی میں خدشات کی عکاسی کرتی ہے اور آئندہ کارگو کے لئے پریمیم بدستور بلند رہنے کا امکان ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ عالمی قیمتوں میں اضافے سے درآمدی لاگت نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے جس کے باعث لین دین کے حجم میں اضافہ اور موجودہ مالیاتی بندوبست پر دباؤ پیدا ہوا ہے۔
کمیٹی نے لیٹرز آف کریڈٹ کے حجم میں اضافے سے پیدا ہونے والے مسائل پر غور کیا اور مالیاتی اداروں اور درآمد کنندگان کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ایندھن کی درآمد کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔وزیر خزانہ نے معاملے کو سٹیٹ بینک اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت کی تاکہ سہولت کاری کے اقدامات کئے جا سکیں جن میں عارضی مالیاتی سہولتیں اور کنسورشیم بنیادوں پر فنانسنگ شامل ہو سکتی ہے۔گورنر سٹیٹ بینک نے یقین دہانی کرائی کہ احتیاطی حدود سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا جبکہ بینکوں کو موجودہ حالات کے پیش نظر لچکدار رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔ کمیٹی نے ملکی سطح پر ایندھن کی طلب کا بھی جائزہ لیا اور حالیہ ہفتوں میں طلب میں اضافے کے آثار نوٹ کئے۔ اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کے لئے قریبی نگرانی ضروری ہے تاکہ ترسیلی نظام میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے،صوبائی حکومتوں اور ریگولیٹری اداروں کو نگرانی سخت کرنے اور ضرورت پڑنے پر معائنہ اور قانونی کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی گئی۔
آنے والی عید کی تعطیلات اور فصل کی کٹائی کے موسم کے پیش نظر سپلائی کے تسلسل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں طلب پوری کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں جبکہ ڈپو معمول کے مطابق فعال رہیں گے اور ایندھن کی فراہمی میں کسی رکاوٹ کا امکان نہیں ۔اجلاس میں ذخائر اور سپلائی کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لئے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کی تیاری پر پیشرفت کا جائزہ بھی لیا گیا جس کا مقصد حقیقی وقت میں معلومات کی دستیابی کو بہتر بنانا ہے۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے بروقت ڈیٹا شیئرنگ یقینی بنائیں تاکہ بہتر فیصلے کئے جا سکیں۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ سپلائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کے لئے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے جاری ہیں جن میں حکومت سے حکومت کی سطح پر معاہدے بھی شامل ہیں۔ توقع ہے کہ آئندہ ہفتوں میں اضافی درآمدات سے سپلائی مزید مستحکم ہوگی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور عوام پر بوجھ کو کم سے کم رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی منڈیاں غیر یقینی صورتحال اور قیمتوں کے دباؤ کا شکار ہیں تاہم بروقت منصوبہ بندی اور مربوط اقدامات کے باعث ملکی سطح پر سپلائی مستحکم رہی ہے۔وزیر خزانہ نے مزید ہدایت کی کہ کمیٹی عالمی منڈی، مقامی ذخائر اور سپلائی چین کی صورتحال کی روزانہ نگرانی جاری رکھے تاکہ بروقت اور مربوط پالیسی فیصلے کئے جا سکیں۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کو بھی دہرایا کہ توانائی کے شعبے میں استحکام برقرار رکھا جائے گا، قومی توانائی سلامتی کا تحفظ کیا جائے گا اور بدلتے عالمی حالات کے باوجود پٹرولیم سپلائی چین کو بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔








