شام کی بحالی کی نازک صورتحال کو مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی جنگ سے ہر ممکن طور پر محفوظ رکھا جائے، پاکستان

اقوام متحدہ۔19مارچ (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ خاص طور ایران پر جاری امریکی اسرائیلی جنگ میں توسیع اور لبنان میں کشیدگی کے درمیان شام کے استحکام اور بحالی کے عمل کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں شام کی صورتحال پر بحث کے دوران …

اقوام متحدہ۔19مارچ (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ خاص طور ایران پر جاری امریکی اسرائیلی جنگ میں توسیع اور لبنان میں کشیدگی کے درمیان شام کے استحکام اور بحالی کے عمل کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں شام کی صورتحال پر بحث کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور لبنان کی صورتحال اب شام تک پھیل رہی ہے، جو پہلے ہی خاص طور پر 2024 کے آخر میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ پاکستان نے زور دیا کہ ایسے غیر یقینی حالات میں ضروری ہے کہ شام کو علاقائی تنازعات کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جائے تاکہ اس کی بحالی اور استحکام کا عمل متاثر نہ ہو۔

پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ شام میں سیاسی عمل شامی قیادت اور شامی عوام کی ملکیت ہونا چاہیے، جو شفاف، جامع اور بروقت انداز میں آگے بڑھے۔ اس میں قانون ساز اداروں کی تکمیل بھی شامل ہے ۔ ہم شمال مشرق میں پارلیمانی عمل کی تکمیل اور باقی ارکان کی تقرری کے بھی منتظر ہیں۔ پاکستان نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے کردار کو سراہتے ہوئے اس کی مسلسل اور تعمیری شمولیت کی حمایت کی۔پاکستانی مندوب نے 30 جنوری کو شامی حکومت اورسیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے قومی یکجہتی کی جانب ایک مثبت اور تعمیری قدم قرار دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ اس معاہدے پر موثر عملدرآمد نہایت ضروری ہے، جس کے لیے مسلسل بات چیت ، باہمی اعتماد ضروری اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو اعتماد کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔ شامی حکومت کی جانب سے حالیہ اقدامات، خصوصاً ادارہ جاتی تقرریاں، حوصلہ افزا ہیں اور یہ ملک میں استحکام کی جانب پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ مختلف مسلح گروہوں کو ایک متحد قومی ڈھانچے میں ضم کرنا، سرحدوں کا موثر انتظام یقینی بنانا اور دہشت گردی خصوصاً داعش کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کرنا اہم ترجیحات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کی موجودگی بدستور ایک سنگین خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ معاشی حوالے سے پاکستانی مندوب نے کہا کہ اگرچہ کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے، تاہم صورتحال اب بھی نازک ہے۔

انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے خاتمے سے ریاستی سرگرمیوں، بینکاری، ٹرانسپورٹ، توانائی اور تعمیرِ نو کے شعبوں میں کام کرنے کے لیے قانونی گنجائش پیدا ہوئی ہے لیکن حالیہ علاقائی کشیدگی اور بدلتی صورتحال ان مثبت پیش رفتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پابندیوں میں نرمی سے پیدا ہونے والے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ معاشی بحالی کا عمل موثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔ انسانی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ لاکھوں شامی شہری اب بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں، اس لیےجلد بحالی کے اقدامات کو تیز کرنا ناگزیر ہے، جس میں مناسب فنڈنگ، بنیادی سہولیات، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع کی فراہمی شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو شام کے علاقے گولان کی پہاڑیوں پر غیر قانونی قبضہ ختم کرنا چاہیے اور 1974 کے معاہدے سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، خاص طور پر 338 اور 497، کا مکمل احترام کرنا چاہیے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کا احترام انتہائی ضروری ہے۔