علمائے کرام اتحاد کو مضبوط ، انتہاپسندی کا مقابلہ کریں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

راولپنڈی۔19مارچ (اے پی پی):چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے علمائے کرام کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اتحاد کو مضبوط کریں اور انتہاپسندی کا مقابلہ کریں۔ مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا،دہشت گردوں اور ان کے ڈھانچے کے خاتمے کے لیے درست اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر …

راولپنڈی۔19مارچ (اے پی پی):چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے علمائے کرام کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اتحاد کو مضبوط کریں اور انتہاپسندی کا مقابلہ کریں۔ مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا،دہشت گردوں اور ان کے ڈھانچے کے خاتمے کے لیے درست اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جائیں گی ۔

جمعرات کو آئی ایس پی آرسے جاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرسے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علمائے کرام نے یہاں ملاقات کی، جس میں قومی سلامتی اور معاشرتی ہم آہنگی میں علمائے کرام کے کردار پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔فیلڈ مارشل نے اتحاد، برداشت اور قومی یکجہتی کے فروغ خصوصاًمس انفارمیشن، فرقہ وارانہ بیانیے اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی عدم استحکام کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے علمائے کرام کے اہم کردار پر زور دیا۔

آپریشن غضب لِلحق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا، انہوں نے دہشت گردوں اور ان کے ڈھانچے کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چاہے وہ کہیں بھی موجود ہوں، اور اس کے لیے درست اور انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جائیں گی۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغان طالبان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔فیلڈ مارشل نے شرکا کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں اور فعال سفارتکاری سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے علمائے کرام کے اہم کردار پر زور دیا کہ وہ اتحاد کو مضبوط کریں اور انتہاپسندی کا مقابلہ کریں، اور اس بات کا اعادہ کیا کہ مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔علمائے کرام نے امن و استحکام کی خواہش کا اظہار کیا اور مذہب کے نام پر تشدد کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔