پی ایم اینڈ ڈی سی کی پاکستان بھر میں پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنسی ٹریننگ نشستوں میں توسیع کی سفارشات

اسلام آباد۔19مارچ (اے پی پی):پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) نے 10 فروری 2026ء کو منعقدہ اپنے کونسل اجلاس میں ملک میں پوسٹ گریجویٹ (پی جی) میڈیکل تربیت کی صلاحیت کا جامع جائزہ لیا اور صوبائی محکمہ صحت کو باضابطہ سفارشات جاری کی ہیں تاکہ میڈیکل گریجویٹس اور دستیاب پوسٹ گریجویٹ تربیتی مواقع کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو کم کیا جا سکے۔پاکستان نے گزشتہ دو …

اسلام آباد۔19مارچ (اے پی پی):پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) نے 10 فروری 2026ء کو منعقدہ اپنے کونسل اجلاس میں ملک میں پوسٹ گریجویٹ (پی جی) میڈیکل تربیت کی صلاحیت کا جامع جائزہ لیا اور صوبائی محکمہ صحت کو باضابطہ سفارشات جاری کی ہیں تاکہ میڈیکل گریجویٹس اور دستیاب پوسٹ گریجویٹ تربیتی مواقع کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو کم کیا جا سکے۔پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انڈرگریجویٹ میڈیکل تعلیم میں نمایاں پیش رفت کی ہے جس کے نتیجے میں میڈیکل گریجویٹس کی تعداد مناسب حد تک بڑھ گئی ہے اور بعض شعبوں میں یہ تعداد ضرورت سے بھی زیادہ ہو گئی ہے تاہم اس اضافے کے ساتھ پوسٹ گریجویٹ تربیتی نشستوں میں متناسب اضافہ نہیں کیا گیا۔اس کے نتیجے میں ہر سال بڑی تعداد میں اہل ڈاکٹر محدود تعداد میں دستیاب پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنسی نشستوں کے لیے مقابلہ کرتے ہیں، خصوصاً سرکاری شعبے میں جہاں زیادہ تر منظور شدہ تربیتی پروگرامز چلائے جاتے ہیں۔

کونسل نے کہا کہ اصل مسئلہ گریجویٹس کی تعداد نہیں بلکہ تربیتی نشستوں اور بعد ازاں روزگار کے مواقع کی کمی ہے۔کونسل نے مشاہدہ کیا کہ یہ عدم توازن ہنر مند میڈیکل گریجویٹس کی بیرون ملک بہتر تربیت اور کیریئر کے مواقع کی تلاش میں بڑھتی ہوئی ہجرت کی ایک بڑی وجہ ہے۔کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ پی ایم اینڈ ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت کونسل کو میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم و تربیت کے معیار، منظوری اور تسلیم شدگی کو منظم کرنے کا اختیار حاصل ہے تاہم پوسٹ گریجویٹ تربیتی نشستوں کا قیام، توسیع اور فنڈنگ صوبائی محکمہ صحت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے جو سرکاری ہسپتالوں بشمول ٹیچنگ ہسپتالوں، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز (ڈی ایچ کیوز) اور تحصیل ہیڈکوارٹرز (ٹی ایچ کیوز) ہسپتالوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

صدر پی ایم اینڈ ڈی سی پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے اپنے بیان میں کہا کہ تفصیلی غور و خوض کے بعد کونسل نے متفقہ طور پر سفارش کی ہے کہ سرکاری صحت کے اداروں میں پوسٹ گریجویٹ تربیتی نشستوں میں نمایاں اضافہ کیا جائے اور جہاں ممکن ہو انہیں مرحلہ وار اور مالی طور پر ذمہ دارانہ انداز میں دوگنا کیا جائے تاکہ یہ اضافہ میڈیکل گریجویٹس کی سالانہ تعداد اور صوبائی صحت کی ضروریات کے مطابق ہو۔مزید برآں موجودہ سرکاری ہسپتالوں بشمول ڈی ایچ کیوز اور ٹی ایچ کیوز کو اپ گریڈ کر کے انہیں تربیتی مراکز کے طور پر تیار کیا جائے تاکہ وہ پی ایم اینڈ ڈی سی کے معیار کے مطابق منظور شدہ پوسٹ گریجویٹ تربیتی ادارے بن سکیں۔

پوسٹ گریجویٹ تربیتی نشستوں کو شفاف اور میرٹ پر مبنی کیریئر ترقی کے نظام سے منسلک کیا جانا چاہیے تاکہ تربیت یافتہ ماہرین کو برقرار رکھا جا سکے اور ثانوی و اعلیٰ سطح پر صحت کی سہولیات کو مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ پوسٹ گریجویٹ تربیتی نشستوں میں اضافہ ملک کے اندر زیادہ گریجویٹس کو مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ مزید یہ کہ اس سے میڈیکل اداروں میں قابل اساتذہ کی کمی کو بھی پورا کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ پوسٹ گریجویٹ تربیت حاصل کرنے والے ڈاکٹر مستقبل میں تدریسی اور نگرانی کے کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سفارشات وسیع تر عوامی مفاد میں دی گئی ہیں تاکہ افرادی قوت کے عدم توازن کو دور کیا جا سکے، ادارہ جاتی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے اور تربیت یافتہ طبی ماہرین کے بیرون ملک جانے کے رجحان کو کم کیا جا سکے جبکہ پی ایم اینڈ ڈی سی اور صوبائی حکومتوں کے آئینی کردار کا مکمل احترام بھی برقرار رکھا جائے۔