اسلام آباد۔20مارچ (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں 21 مارچ کو عالمی یوم جنگلات منایا جائے گا، پاکستان نے عالمی دن کی مناسبت سے زور دیا ہے کہ جنگلات صرف ماحولیاتی وسائل تک محدود نہیں بلکہ معاشی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور کمیونٹی کی فلاح کے لیے کلیدی ستون بھی ہیں۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے عالمی دن کے موقع پر کہا …
عالمی یوم جنگلات، پاکستان کا جنگلات کو معیشت اور ماحولیاتی تحفظ کے مراکز بنانے کا عزم

مزید خبریں
اسلام آباد۔20مارچ (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں 21 مارچ کو عالمی یوم جنگلات منایا جائے گا، پاکستان نے عالمی دن کی مناسبت سے زور دیا ہے کہ جنگلات صرف ماحولیاتی وسائل تک محدود نہیں بلکہ معاشی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور کمیونٹی کی فلاح کے لیے کلیدی ستون بھی ہیں۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے عالمی دن کے موقع پر کہا کہ رواں سال کا عالمی موضوع "جنگلات اور معیشتیں” یہ اجاگر کرتا ہے کہ جنگلات کس طرح روزگار کو سہارا، معاشی سرگرمیوں کو فروغ ، زراعت کی مدد اور قدرتی وسائل کی حفاظت کرتے ہیں۔
محمد سلیم شیخ نے کہا کہ موجودہ حکومت جنگلات کی بے پناہ اہمیت کو بخوبی سمجھتی ہے اور انہیں "زمین کے پھیپھڑے” قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سیلاب، خشک سالی، زمین کی خرابی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ کے خطرات سے دوچار ہے، اس لیے جنگلات کی حفاظت قومی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگلات کو صرف لکڑی کے ذرائع کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
صحت مند جنگلات زراعت کو سہارا دیتے ہیں، پانی کے وسائل کو محفوظ رکھتے ہیں، سبز روزگار پیدا کرتے ہیں، خوراک اور ادویات مہیا کرتے ہیں اور فطرت پر مبنی کاروبار، ماحولیاتی سیاحت اور ماحولیاتی سرمایہ کاری کے راستے کھولتے ہیں۔محمد سلیم شیخ نے اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت کی تنظیم کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگلات لکڑی سے آگے جا کر غیر لکڑی مصنوعات، قابل تجدید وسائل اور وہ خدمات فراہم کرتے ہیں جو کمیونٹیز کو ماحولیاتی اور معیشتی صدموں کے اثرات سے بچانے میں مدد دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی دوہزار اکیس میں جنگلات کو کمی اور مطابقت کی حکمت عملیوں کا مرکز قرار دیتی ہے۔ اس میں ماحولیاتی نظام کی بحالی، آبی ذخائر کی حفاظت، جنگلات کی بحالی، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ اور کمیونٹی کی روزگار کی ترقی شامل ہے۔محمد سلیم شیخ نے زور دیا کہ جنگلات کو ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب جنگلات ختم ہوں گے تو کمیونٹیز کی آمدنی، کسانوں کی زمین اور پانی کی حفاظت، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی تحفظ سب متاثر ہوں گے، جبکہ صحت مند جنگلات معاشی، ماحولیاتی اور سماجی فوائد فراہم کرتے ہیں۔








