وفاقی دارالحکومت میں رمضان المبارک کے 5 ویں جمعہ پر عوام کا اظہار تشکر

اسلام آباد۔20مارچ (اے پی پی):ملک کے دیگر حصوں کی طرح اسلام آباد میں بھی شہریوں کی بڑی تعداد نے شکر گزاری اور روحانی تسکین کے گہرے احساس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال رمضان المبارک میں 5 جمعوں کی نادر نعمت نصیب ہوئی ہے۔ رمضان المبارک کے دوران 5 جمعے کم ہی ہوتے ہیں ، عوام کا خیال ہے کہ یہ خصوصیت ماہ مقدس کی حرمت اور …

اسلام آباد۔20مارچ (اے پی پی):ملک کے دیگر حصوں کی طرح اسلام آباد میں بھی شہریوں کی بڑی تعداد نے شکر گزاری اور روحانی تسکین کے گہرے احساس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال رمضان المبارک میں 5 جمعوں کی نادر نعمت نصیب ہوئی ہے۔ رمضان المبارک کے دوران 5 جمعے کم ہی ہوتے ہیں ، عوام کا خیال ہے کہ یہ خصوصیت ماہ مقدس کی حرمت اور انعامات میں اضافہ کرتی ہے۔عبادت گزاروں کا کہنا ہے کہ آج 5ویں جمعہ کی موجودگی اسلام میں بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے اجتماعی دعاؤں، خیرات اور نیکی کے کاموں کے زیادہ مواقع حاصل ہوئے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت کے بہت سے رہائشیوں نے اسے ایک "مبارک اتفاق” کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم مقدس مہینے کے دوران اپنی عبادت کو زیادہ سے زیادہ کر سکتے ہیں۔ 5 ویں جمعہ کے اجتماعات میں دارالحکومت بھر کی مساجد میں نمازیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ لوگوں کی کثیر تعداد جمعہ کی ادائیگی کیلئے جمع ہوئی جو روحانی جوش و جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔مذہبی سکالرز نے اس بات پر زور دیا کہ ماہ رمضان میں پانچ جمعے ہونے سے مومنین کو استغفار کرنے، اجتماعی دعاؤں میں مشغول ہونے اور اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرنے کا ایک وسیع موقع ملا ہے۔

اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے اسلامی اسکالر محترمہ عائشہ نے کہا کہ رمضان کے مہینے میں پانچ جمعہ کا ہونا ایک بابرکت موقع سمجھا جاتا ہے کیونکہ جمعہ کو "سید الایام” (تمام دنوں کا سردار) کہا جاتا ہے جبکہ رمضان کو "سید الشہور” (تمام مہینوں کا سردار) کہا جاتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب عظمت اور برکات کے یہ دو ذرائع آپس میں ملتے ہیں تو یہ مومنین کے لیے اجر اور رحمت کے بڑے دروازے کھول دیتے ہیں۔

انہوں نے رمضان میں پانچ جمعوں کی موجودگی کو عبادت، غور و فکر اور استغفار کا ایک اضافی الہی موقع قرار د دیتے ہوئے مومنوں پر زور دیا کہ اللہ کے ذکر میں اضافہ کریں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں اور اس مقدس مدت میں زیادہ سے زیادہ روحانی فوائد حاصل کرنے کے لیے صدقہ جاریہ کریں۔انہوں نے مزید روشنی ڈالی کہ اگر رمضان میں پانچ جمعے شامل ہوں تو آخری جمعہ، جسے عام طور پر جمعۃ الوداع کہا جاتا ہے، کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ مقدس مہینے کے اختتام کے قریب ہے۔

اس دن مسلمان خاص طور پر توبہ استغفار میں مشغول ہوتے ہیں اور کسی کوتاہی کے لیے معافی طلب کرتے ہیں۔واضح رہے کہ آخری جمعہ کے روز خیراتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، شہری مستحق افراد میں خوراک، کپڑے اور مالی امداد تقسیم کرتے نظر آئے۔اسلام آباد کے بہت سے رہائشیوں نے امید ظاہر کی کہ رمضان کے دوران پانچ جمعہ کے اس نایاب واقعہ سے حاصل ہونے والے روحانی فوائد ہماری زندگیوں پر دیرپا اثر ڈالیں گے اور ہمیں اس مقدس مہینے سے ایمان، سخاوت اور ہمدردی کی اقدار کو آگے بڑھانے کی ترغیب دیں گے۔