وزیراعظم کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ ، قوم سے سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی اپیل
وزیراعظم کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ ، قوم سے سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی اپیل

مزید خبریں
لاہور ۔21مارچ (اے پی پی): وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ مسترد کردیا اور یہ بوجھ خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ غریب اور محروم طبقات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ دو ہفتے کے دوران 69 ارب روپے کا بوجھ عوام کو منتقل کرنے کی بجائے خود برداشت کیا لیکن یہ دیرپا حل نہیں ، ایسا شفاف میکنزم تشکیل دیا جائیگا کہ صرف حقدار ہی یہ ریلیف حاصل کرسکیں۔ سادگی و کفایت شعاری کے اقدامات کو سختی سے نافذ کیا جائے گا۔ خدشہ ہے کہ بحران شدت اور طوالت اختیار کر سکتا ہے ۔ گزشتہ شب قوم سے خطاب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ عوام نے رمضان عبادات میں گزرا۔ وزیراعظم نے پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو عیدالفطر کے بابرکت اور پرمسرت موقع پر دلی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عیدالفطر ایثار، اتحاد، خدمت خلق اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو بھی تازہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا غیریقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ خطے میں توانائی تنصیبات پر ہونے والے حملوں نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ جنگ کی صورتحال نے دنیا کی معیشت کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ تیل کی قیمت جو چند ہفتے قبل 72 ڈالر فی بیرل تھی اب 158 ڈالر فی بیرل کی تاریخی حد عبور کر چکی ہے ۔ صورت حال یہی رہی تو مزید اضافے کا خدشہ ہے جس کا براہ راست بوجھ عوام پر پڑے گا اور مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مارچ کے آغاز میں 55 روپے فی لٹر اضافے نے عوام کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ گھریلو اخراجات پر اس کا براہ راست بوجھ پڑا ہے اور بنیادی ضروریات پورا کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ 13 مارچ کو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا جس کے پیش نظر حکومت کو پٹرول کی قیمت میں 50 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 74 روپے اضافے کی تجویز دی گئی لیکن میں نے قیمتوں میں اضافے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج سے شروع ہونے والے ہفتے کے لیے تجویز دی گئی کہ پٹرول میں 76 روپے اور ڈیزل میں 177 روپے اضافہ کیا جائے لیکن میں نے یہ اضافہ بھی مسترد کر دیا ۔ دو ہفتے کے دوران وفاقی حکومت پٹرول پر 127 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 252 روپے فی لیٹر اضافے کو روک چکی ہے اور 69 ارب روپے کی خطیر رقم اس اضافے کو روکنے کیلئے بچت کرکے خرچ کر چکی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے بجٹ میں کٹوتی کرکے عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کرنے اور اضافے کا بوجھ عوام کو منتقل کرنے کی بجائے خود اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ یہ مشکل فیصلہ تھا لیکن غریب اور متوسط طبقے کو بچانا ضروری ہے لیکن یہ دیرپا حل نہیں ہے ، جہاں تک ہوسکا عوام کو بچائیں گے اور ریلیف دیں گے لیکن غیر منصفانہ طریقے سے یہ ریلیف خوشحال طبقے کو نہیں دیا جاسکتا ۔ اس کیلئے متعلقہ وزارتوں کو جامع اور شفاف میکنزم تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے تاکہ صرف حقداروں تک یہ ریلیف مہیا ہو۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عید کے پرمسرت موقع پر میں نے قیمتوں میں اضافے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کفایت شعاری اور اعتدال سے کام لیں، حکومت کے موثر اقدامات کے ساتھ ساتھ اشرافیہ بھی تعاون کرے، آج ہمیں ایثار اور قربانی کے جذبے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ جذبہ ہی ہے جو ہجوم کو قوم بنا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت قومی یکجہتی کی کہیں زیادہ ضرورت ہے، سادگی کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنانا چاہئے۔ وزیر اعظم نے دعا کی کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ جلدازجلد ختم ہو۔ انہوں نے اس مشکل صورتحال میں ایثار و قربانی کے جذبے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ جذبہ ہی ہجوم کو قوم بناتا ہے ۔ انہوں نے سادگی و کفایت شعاری اقدامات کو سنجیدگی سے نافذ کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر خود اس کا جائزہ لے رہے ہیں ۔








