اسلام آباد۔21مارچ (اے پی پی):ممتاز شاعر افتخار عارف کی سالگرہ ہفتہ 21 مارچ کو منائی گئی۔ افتخار عارف نے بطور صدر نشین مقتدرہ قومی زبان، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان، سربراہ اردو مرکز لندن اور تہران میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے ثقافی ادارے کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ افتخار عارف 21 مارچ 1943 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا …
ممتاز شاعر افتخار عارف کی سالگرہ ہفتہ کو منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔21مارچ (اے پی پی):ممتاز شاعر افتخار عارف کی سالگرہ ہفتہ 21 مارچ کو منائی گئی۔ افتخار عارف نے بطور صدر نشین مقتدرہ قومی زبان، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان، سربراہ اردو مرکز لندن اور تہران میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے ثقافی ادارے کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ افتخار عارف 21 مارچ 1943 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہو گیا۔ انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم۔ اے کیا اور علمی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان میں بحیثیت نیوز کاسٹر کیا ۔ بعد ازاں وہ پی ٹی وی سے منسلک ہو گئے۔ اس دور میں ان کا پروگرام کسوٹی بہت زیادہ مقبول ہوا۔ بی سی سی آئی بینک کے تعاون سے چلنے والے ادارے "اردو مرکز” کو جوائن کرنے کے بعد افتخار عارف برطانیہ منتقل ہو گئے اور برطانیہ سے واپس آنے کے بعد مقتدرہ قومی زبان کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا۔
اس کے بعد انہوں نے اکادمی ادبیات کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں جبکہ نومبر 2008 سے مقتدرہ قومی زبان کے چیئرمین اور اسلامی جمہوریہ ایران کے دار الحکومت تہران میں ای سی او کے ثقافتی شعبہ کی سربراہی بھی کی۔ افتخار عارف اپنی نسل کے سنجیدہ ترین شاعر ہیں۔ وہ اپنے مواد اور فن دونوں میں ایک ایسی پختگی کا اظہار کرتے ہیں جو دوسروں میں نایاب نہیں تو کامیاب ضرور ہے۔ تحریر پر ان کی گرفت حیرت انگیز حد تک مضبوط ہے۔ افتخار عارف کی آواز جدید اردو شاعری کی ایک بہت زندہ اور توانا آواز ہے۔
ان کی تصانیف میں شعری مجموعےبارہواں کھلاڑی،مہر دو نیم،حرفِ باریاب،جہان معلوم،باغِ گلِ سرخ،شہر علم کے دروازے پر،کتاب دل و دنیا کلیات، اور Written in the Season of Fear سمیت در کلوندہ اور افتخار عارف جی نظمن جو سندی ترجمو وغیرہ شامل ہیں۔ افتخار عارف کی خدمات کے اعتراف میں ان کو فیض انٹرنیشنل ایوارڈ، وثیقہ اعتراف،باب اردو ایوارڈ،نقوش ایوارڈ سمیٹ تمغہ حسن کارکردگی، ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔افتخار عارف کی سالگرہ کے موقع پر علمی و ادبی حلقوں کی جانب سے ان کی خدمات پر بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔








