اسلام آباد۔22مارچ (اے پی پی):برصغیر کے نامور موسیقار نثار بزمی کی برسی اتوار 22 مارچ کو منائی گئی ۔ان کا اصل نام سید نثار احمد بزمی تھا اور وہ یکم دسمبر 1925 کوجلگائوں میں پیدا ہوئے۔13 سال کی عمر میں نثار بزمی نے موسیقی پر عبور حاصل کر لیا۔انہوں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز 1939 میں آل انڈیا ریڈیو سے بطور آرٹسٹ کیا اور پہلی مرتبہ 1946میں فلم ’’جمنا …
موسیقار نثار بزمی کی برسی اتوار کو منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔22مارچ (اے پی پی):برصغیر کے نامور موسیقار نثار بزمی کی برسی اتوار 22 مارچ کو منائی گئی ۔ان کا اصل نام سید نثار احمد بزمی تھا اور وہ یکم دسمبر 1925 کوجلگائوں میں پیدا ہوئے۔13 سال کی عمر میں نثار بزمی نے موسیقی پر عبور حاصل کر لیا۔انہوں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز 1939 میں آل انڈیا ریڈیو سے بطور آرٹسٹ کیا اور پہلی مرتبہ 1946میں فلم ’’جمنا پار ‘‘کیلئے میوزک کمپوز کیا ۔ انہوں نے اپنا نام سید نثار احمد کی جبائے نثار بزمی منتخب کیا۔نثار بزمی 1962 کو ہجرت کے بعد پاکستان منتقل ہو گئے ۔پاکستان میں پہلا گیت فلم ’’ایسا بھی ہوتا ہے ‘‘کیلئے کمپوز کیا۔ نثار بزمی نے پاپ گلوکار عالمگیر کو متعارف کروایا ۔اسکے علاوہ بد ر الزمان ،تنویر آفریدی، فیصل لطیف، شازیہ کوثر، شبانہ کوثر، خورشید نور علی اور دیگر گلوکاروں کو بھی موسیقی کے اسرار و رموز سے آگاہ کیا اور تربیت دی ۔انکے کیریئر کی آخری فلم ’’ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ ‘‘تھی۔
انکے کمپوز کردہ مقبول ترین اور سدا بہار فلمی گیتوں میں’’ اے بہارو گواہ رہنا، اظہار بھی مشکل ہے ، لگا ہے حسن کا بازار دیکھو، رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کیلئے آ، اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا،ہم چلے تو ہمارے سنگ سنگ نظارے چلے ، چلو اچھا ہوا تم بھول گئے اور کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے‘‘ کے علاوہ کئی نغمات شامل ہیں۔ نثار بزمی کو نگار ایوارڈ اور تمغہ حسن کارکردگی سمیت کئی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ نثار بزمی 22مارچ 2007 کوخالق حقیقی سے جاملے ۔ ان کی برسی کے موقع پر شوبز اور میوزک انڈسٹری سمیت ان کے مداحوں کی جانب سے بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔








