اسلام آباد۔24مارچ (اے پی پی):چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک )منصوبے کے تحت قائم 1320 میگاواٹ کا ساہیوال پاور پلانٹ مقدس مہینے رمضان کے دوران بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بناتے ہوئے قومی طلب میں ہونے والے نمایاں اضافے کو کامیابی سے پورا کرتا رہا۔ اس سلسلے میں حکومتی اداروں اور پلانٹ انتظامیہ کے درمیان قریبی تعاون کلیدی حیثیت رکھتا تھا ۔ کوئلہ سے چلنے والے ساہیوال کول پاور …
ساہیوال پاور پلانٹ نے رمضان کے دوران بجلی کی فراہمی کو مستحکم رکھنے میں کردار ادا کیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔24مارچ (اے پی پی):چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک )منصوبے کے تحت قائم 1320 میگاواٹ کا ساہیوال پاور پلانٹ مقدس مہینے رمضان کے دوران بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بناتے ہوئے قومی طلب میں ہونے والے نمایاں اضافے کو کامیابی سے پورا کرتا رہا۔ اس سلسلے میں حکومتی اداروں اور پلانٹ انتظامیہ کے درمیان قریبی تعاون کلیدی حیثیت رکھتا تھا ۔ کوئلہ سے چلنے والے ساہیوال کول پاور پلانٹ حکام کے مطابق 18 فروری سے 20 مارچ تک ملک بھر میں لاکھوں گھرانوں نے اپنی مذہبی اور روزمرہ سرگرمیوں کے لیے مستحکم بجلی پر انحصار کیا۔ اس دوران بجلی کی مسلسل فراہمی نہ صرف سماجی ہم آہنگی کے لیے ضروری تھی بلکہ ملک گیر عبادات کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
اس سال توانائی کے شعبے کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا رہا، جن میں علاقائی سکیورٹی صورتحال، عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، اور اندرونِ ملک لاجسٹک مسائل شامل تھے۔ خاص طور پر ریلوے ویگنز کی کمی اور ٹرانسپورٹ کی کم کارکردگی نے بجلی کی پیداوار کو متاثر کرنے کا خدشہ پیدا کیا۔مزید برآں، شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت اور کم بارشوں کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی، جس سے بجلی کی فراہمی میں خلا بڑھ گیا۔ ایسے حالات میں تھرمل پاور پلانٹس کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی۔چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا ایک اہم منصوبہ ہونے کے ناطے ساہیوال پاور پلانٹ نے بروقت “رمضان پاور ایشورنس پلان” نافذ کیا۔
اس کے تحت ایندھن کی فراہمی، ریلوے لاجسٹکس، پلانٹ آپریشنز اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطوں کو مؤثر بنایا گیا تاکہ بجلی کی پیداوار بلا تعطل جاری رہے۔ایندھن کی فراہمی اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی مسائل کے حل کے لیے پلانٹ نے اہم قومی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا، جن میں نیشنل گرڈ ڈسپیچ سینٹر، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی، اور پاکستان ریلوے شامل ہیں۔ اس موثر رابطہ کاری کے ذریعے درپیش مسائل کو اجاگر کیا گیا اور بروقت ادارہ جاتی تعاون حاصل کیا گیا۔اسی دوران صنعتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون سے ریلوے ویگنز کے پرزہ جات کی درآمد، کسٹم کلیئرنس اور ترسیل کے عمل کو تیز کیا گیا، جس سے ریل کے ذریعے کوئلے کی ترسیل میں بہتری آئی۔
قومی اداروں نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ نیشنل گرڈ ڈسپیچ سینٹر نے نظام کے استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے پلانٹ کی صلاحیتوں کے مطابق بجلی کی ترسیل کے احکامات جاری کیے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے مالی معاونت فراہم کی جبکہ پاکستان ریلوے نے کوئلے کی ترسیل کو ترجیح دیتے ہوئے خصوصی اقدامات کیے۔رمضان کے دوران چار جہازوں سے کوئلہ اتارا گیا جبکہ 96 ٹرینیں کامیابی سے پلانٹ تک پہنچائی گئیں، جس کے نتیجے میں 192,000 ٹن کوئلہ استعمال کیا گیا۔ اسی عرصے میں پلانٹ نے تقریباً 660 ملین کلو واٹ گھنٹے بجلی پیدا کی، جبکہ زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت 92 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔








