غیر مستند وائرل معلومات سے کاروباری ماحول متاثر ہوتا ہے، صدر سیالکوٹ چیمبر

سیالکوٹ۔ 29 مارچ (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر ضلعی دفتر اطلاعات سیالکوٹ محمد اویس اور پی آر او ضلعی انتظامیہ قاسم عابد نے صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سید احتشام مظہر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران مستند معلومات کی بروقت فراہمی، سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مصدقہ خبروں کی روک تھام اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے فروغ پر …

سیالکوٹ۔ 29 مارچ (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر ضلعی دفتر اطلاعات سیالکوٹ محمد اویس اور پی آر او ضلعی انتظامیہ قاسم عابد نے صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سید احتشام مظہر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران مستند معلومات کی بروقت فراہمی، سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مصدقہ خبروں کی روک تھام اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ دور میں معلومات کی تیز تر ترسیل کے باعث ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن ایک سنجیدہ چیلنج بن چکے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ اس موقع پر اعجاز غوری اور سید حیدر بھی موجود تھے۔صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سید احتشام مظہر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غیر مستند معلومات کے وائرل ہونے سے کاروباری ماحول متاثر ہوتا ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ ادارے اور اسٹیک ہولڈرز بروقت اور مستند معلومات کے تبادلے کو یقینی بنائیں تاکہ افواہوں کا سدباب کیا جا سکے اور مثبت کاروباری ماحول برقرار رہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر محمد اویس نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی دفتر اطلاعات سیالکوٹ، حکومت پنجاب کے ترجمان کے طور پر ضلع بھر میں مستند معلومات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام تک درست اور تصدیق شدہ معلومات کی بروقت ترسیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات کا پھیلاؤ ایک بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لئے اداروں، میڈیا اور کاروباری برادری کے درمیان مضبوط روابط اور آگاہی مہمات انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ضلعی دفتر اطلاعات ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا تاکہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنایا جا سکے اور معاشرتی و کاروباری استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔